انتخاب۔۔۔۔ سردار ، سرکار اور سرمچار

انتخاب۔۔۔۔ سردار ، سرکار اور سرمچار
کل سے انور ساجدی صاحب کے ایک کالم کو لے کر سوشل میڈیا پر کافی مباحث ہورہے ہیں ۔اس کالم میں محمودخان اچکزئی سے متعلق بازاری لفظ کے استعمال پر صرف پشتونخوا میپ کے کارکن ہی نہیں بلکہ عام پشتون اور پڑھے لکھے سنجیدہ بلوچوں کو بھی دکھ پہنچا ہے مگر سب ضبط کا دامن تھامے ہوئے ہیںجو اچھی بات ہے ۔ جو لوگ اسے دھڑادھڑ شیئر اور کاپی پیسٹ کررہے ہیں ان میں انور ساجدی کے مخالفین بھی پیش پیش ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ساجدی صاحب نے اچھے بھلے تنقیدی کالم میں تخریبی پیرا گراف کیوں ڈالا ۔ محمود خان اچکزئی اس پورے خطے کے ایک اہم اور سربرآوردہ شخصیت ہیں ذاتی طور پر مجھے ان کے سیاسی نظریے سے اختلاف ہے مگر میرا اختلاف محمودخان اچکزئی کے قد کاٹ کو کم تو نہیں کرسکتا ۔ اگر ساجدی صاحب کو پچاس سالہ صحافتی کیریئر میں اتنے مواقع ملے ہیں تو سوچیں محمودخان اچکزئی کو کتنے مواقع ملیں ہوںگے ۔ ساجدی صاحب تضحیک آمیز جملے کے بغیر بھی تو اپنا مضمون اور نفس مضمون بیان کرسکتے تھے ۔ ان کا نفس مضمون جو میں نے اخذ کیا وہ یہی ہے کہ سرکار ، سردار اور سرمچار تینوں کے ہاں بیک وقت حاضری لگائی جائے اور یہ حاضری محمودخان اچکزئی کوگالی دیئے بناءبھی لگائی جاسکتی تھی ۔ کسی دوست نے لکھا کہ ” انتخاب کاایڈیٹر بھی قوم پرست نکلا “ میں نے کہا کاش وہ قوم پرست ہوتا ۔ وہ قوم پرست ہوتا تو آج اس کی قوم کی حالت یہ نہ ہوتی ۔ ساجدی صاحب بلا مبالغہ اس وقت بلوچستان ہی نہیں پورے ملک کی سطح پر ایک بڑا نام ہیں ۔ وہ ورکنگ جرنلسٹ رہے اور ان کے ہم عصر بتاتے ہیں کہ رپورٹنگ ساجدی صاحب پر ختم تھی ۔ کمال کا حافظہ اور گہری مشاہداتی حس رکھتے ہیں ، حالات وواقعات کا گہرا ، غیر معمولی اور بے لاگ تجزیہ کرتے ہیں ، پڑھے لکھے بھی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ وہ نہ تو سرکار کو قبول ہیں نہ سردار کو اور نہ ہی سرمچار کو ۔کیوں ؟ اس کیوں کا جواب یہ ہے کہ انتخاب کھرا سودا نہیں بیچتا ۔ یہ دنیا کا دستور ہے کہ جو دکاندار ملاوٹ کرتا ہو ، ذخیرہ اندوز ہو ، بلیک مارکیٹنگ کرتا ہو وہ کھرے اور ناپ تول کے پکے دکاندار کو اچھا انسان نہیں سمجھتا ۔ سردار ، سرکار اور سرمچار تینوں کو باری باری خوش کرنے والا جینئس اچھی طرح جانتا ہے کہ محمود خان کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ سوداگر ہیں مگر ان کا نام جینئس نہیں لیا کیونکہ انہیں ایکسپوز کرنے سے حاضری نہیں لگتی ۔ حاضری محمودخان کو گالی دینے سے لگتی ہے ۔ بزرگوار ۔۔سوداگر ایسے نہیں ہوتے سوداگروں کو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں مگر کنی کتراجاتے ہیں ۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.