اسلام آباد۔(اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ خطے کو تنازعہ کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کی جانب سے وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس بائونڈری دریا ممالک کے درمیان فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے، پاکستان نے اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا حالانکہ اس کیلئے پاکستان کو نمایاں رعایتیں دینی پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ خطے کے اہم ترین مشترکہ وسائل میں سے ایک کے استعمال کے حوالے سے طویل المدتی پیش بینی اور استحکام فراہم کرے گا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلان اور معاہدے کے مطابق مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں کا تقدس ان بنیادی اصولوں میں شامل ہے جن پر اقوام کے درمیان پرامن تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ سیمینار کی افتتاحی نششت سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کی بے اعتنائی نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کے تقدس کو کمزور کر رہی ہے بلکہ عالمی امن اور نظم و ضبط کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی تہذیب کی بنیاد ہے اور اس کی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو دریائے سندھ کے پانیوں پر ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی ناکام کوشش بھارت کیلئے بین الاقوامی سطح پر سبکی کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی اخلاقی، سماجی اور قانونی بنیادیں انتہائی کمزور ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر عالمی موسمیاتی بحران کے تناظر میں معاہدے کی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی غیر قانونی کوششوں کا نوٹس لے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ امن کا تصور ممکن نہیں تو دنیا یہ کیسے توقع کرسکتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو نشانہ بنا کر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کرنے میں پاکستان کی حمایت کرے تاکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے اور اسے ایک تزویراتی تباہی کی طرف لے جانے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک بین الاقوامی کنونشن کا بھی مطالبہ کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات پاکستان میں موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف موسمیاتی بحران ہے اور نہ ہی صرف پانی کا بحران، بلکہ یہ انصاف کا بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک کی خلاف ورزی کر کے بھارت نے بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات دنیا بھر کے زیریں کنارے والے ممالک کے حقوق کی نئی تشریح کر رہے ہیں جس کے عالمی نتائج سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ ہونا چاہیے۔سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات کا ذکر کیا جن میں بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنا اور سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائوں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل شامل ہے۔سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھارت ایک بین الاقوامی طور پر پابند معاہدے کے حوالے سے اپنے غیر قانونی اقدام سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔
سابق نگراں وفاقی وزیر قانون و انصاف احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سرحدی آبی وسائل عالمی مشترکہ اثاثے ہیں اور کوئی بھی ملک اپنی حدود سے گزرنے والے پانی پر ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنا درحقیقت معاہدے کی خلاف ورزی کا اعتراف ہے جس سے پاکستان کو قانونی طور پر اقدامات کے ذریعے جواب دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو مختص مغربی دریائوں پر مختلف منصوبے شروع کیے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئی دہلی کے عزائم معاہدے کی معطلی سے پہلے ہی پانی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کے تھے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].