لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ محض کسی WhatsApp Group کا ایڈمن، خالق (Creator) یا عام ممبر ہونا کسی شخص کو خودکار طور پر گروپ میں شیئر ہونے والے ہر پیغام یا پوسٹ کا ذمہ دار نہیں بناتا۔ فوجداری ذمہ داری اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب ابتدائی شواہد سے ثابت ہو کہ ملزم نے خود قابلِ اعتراض مواد اپ لوڈ، فارورڈ، شیئر یا پھیلایا یا اس عمل میں جان بوجھ کر معاونت، سازش یا اکسانے کا کردار ادا کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ PECA 2016 کی دفعہ 11 کا اطلاق صرف اس شخص پر ہوتا ہے جو انفارمیشن سسٹم یا الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے نفرت انگیز یا غیر قانونی مواد تیار کرے یا پھیلائے۔ صرف کسی گروپ کا رکن ہونا، پیغام وصول کرنا یا ایڈمن ہونا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اسی طرح تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت معاونتِ جرم اسی صورت ثابت ہوگی جب کسی شخص کی جانب سے جان بوجھ کر جرم میں مدد، سازش یا اکسانے کے شواہد موجود ہوں۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ واٹس ایپ ایڈمن کے پاس صرف ممبرز کو شامل یا خارج کرنے کا اختیار ہوتا ہے، وہ ہر پیغام کو پہلے سے کنٹرول یا سینسر نہیں کر سکتا۔ لہٰذا صرف ایڈمن ہونے کی بنیاد پر کسی دوسرے ممبر کی پوسٹ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جب تک اس کی اپنی مجرمانہ نیت یا کردار ثابت نہ ہو۔ اسی طرح صرف کسی پوسٹ پر ایموجی بھیج دینا، مختصر ردِعمل دینا یا خاموش رہنا بھی ہر صورت جرم نہیں بنتا۔
تاہم موجودہ مقدمے میں عدالت نے ضمانت اس لیے مسترد کی کیونکہ ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے Vivo Y22 موبائل فون کی فرانزک رپورٹ کے مطابق مبینہ قابلِ اعتراض مواد اس کے WhatsApp Sent Folder سے ملا، جس سے بادی النظر اس کے مواد کی ترسیل میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موبائل فون کی فرانزک جانچ میں تاخیر، جب تک چھیڑ چھاڑ کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو، رپورٹ کو ناقابلِ اعتماد نہیں بناتی۔
اہم قانونی اصول: صرف واٹس ایپ گروپ کا ممبر یا ایڈمن ہونا جرم نہیں، لیکن اگر قابلِ اعتراض مواد خود شیئر، فارورڈ یا پھیلانے کے ابتدائی شواہد موجود ہوں تو فوجداری ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].