پشاور(دی باغوان )خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دیدیئے گئے

پشاور(دی باغوان )خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دیدیئے گئے
پشاور(دی باغوان )خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دیدیئے گئے یہ اختیارات سی آر پی سی کی 22A اور 22B میں وضع کئے گئے ہیں جب پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر رہی ہو۔ اس کے تحت وہ درج ذیل احکامات جاری کر سکتے ہیں ایف آئی آرکا اندراج اگر پولیس کسی قابل دست اندازی جرم کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کرے تو جسٹس آف پیس پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ پولیس کی زیادتی یا غفلت اگر پولیس تفتیش میں غفلت برتے، کسی شہری کو بلاوجہ ہراساں کرے یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، تو اس کے خلاف کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں شکایات کا ازالہ شہری پولیس کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت لے کر اس رجوع کر سکتے ہیں امن و امان کا قیام اپنے علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے وہ پولیس افسران کی مدد کر سکتے ہیں پولیس کی معاونت کسی مجرم کی گرفتاری یا کسی سنگین جرم کو روکنے کے لیے وہ مقامی پولیس کو ہدایات جاری کر سکتے ہیں درخواستوں پر فیصلہ سیکشن 22A کے تحت آنے والی شہریوں کی درخواستوں کو سننا اور قانون کے مطابق ان پر احکامات جاری کرنا ان کا بنیادی فرض ہے

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.