اسلام آباد(دی باغوان)پی ٹی آئی کے زیر اہتمام بلوچستان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ ریاستِ پاکستان نے بلوچستان کو ابتدا ہی سے ایک کالونی کے طور پر دیکھا اور اب اسی طرزِ عمل میں کشمیر بھی شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست برابر کا سلوک نہیں کر سکتی تو پھر بنگال کی طرح انہیں بھی الگ کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومتیں بھی بلوچستان کے معدنی وسائل فروخت کرتی رہی ہیں۔ محسن داوڑ نے کہا کہ بین الاقوامی سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان اس میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے سے تجارت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پورے خطے میں ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں جن سے لوگوں کو تشدد کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اسٹیبلشمنٹ پراکسی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان کو خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہے، اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے باوجود ان کے لوگ پاکستان میں پروٹوکول حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی کارروائیوں میں طالبان کی کوئی اہم قیادت نشانہ نہیں بنی، بلکہ ان حملوں سے افغان حکومت مزید مضبوط ہوئی اور اسے عوامی حمایت ملی۔ محسن داوڑ نے مزید کہا کہ فتنۂ الخوارج اور بھارت سے متعلق پالیسیوں سمیت دہشت گردی، عدلیہ اور جمہوریت سب کنٹرول میں ہیں، ڈی آئی خان میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہے مگر وہ پنجاب میں داخل نہیں ہوتے، جبکہ پاکستان ایک پراکسی ریاست بن چکا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو بھی بدامنی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات بلوچستان سے بھی زیادہ خراب ہیں، امن جرگے پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا، اور بلوچستان کے تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].