اسلام آباد(دی باغوان)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن کی پی ٹی آئی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاست کو نفرت اور دشمنی میں بدل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں چند منٹ کی مسافت پر واقع بلوچستان ہاؤس میں بیٹھ کر بلوچستان کے مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا، اس پر انہیں خدشہ ہے کہ کہیں معاملہ اس نہج تک نہ پہنچ جائے جہاں واپسی ممکن نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان مایوس ہے، لوگ ریاست سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ایم فل، پی ایچ ڈی اسکالرز اور ڈاکٹرز جیسے تعلیم یافتہ افراد بھی شدت پسندی کی طرف جا رہے ہیں، جو ریاست کی ناکامی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ریاست کو مسائل کی اصل وجوہات تلاش کرنا ہوں گی کیونکہ ہر مسئلے کا آغاز گولی سے کرنا حل نہیں۔ ان کے مطابق جبر کبھی دیرپا حل نہیں بن سکتا، اس لیے مذاکرات اور سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مقامی لوگوں اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے کیونکہ وہاں کے عوام محب وطن اور پاکستان کے خیرخواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل پر بات کر سکتے ہیں تو پاکستان میں بھی یہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو بھی تحفظ درکار ہے، زیارت کا واقعہ معمولی نہیں، لیکن اس پر سنجیدہ گفتگو نہیں ہو رہی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بھی مؤثر آواز نہیں اٹھا رہا اور ملک میں بنیادی حقوق کو دبا دیا گیا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].