ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ 4 روز میں بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے، فتنہ الخوارج نے ہنہ اوڑک میں معصوم لوگوں پر حملہ کیا، بلوچستان میں 4 روز کے دوران 3 دہشت گرد حملے کیے گئے، جن میں 18 پولیس اہلکار، 11 پاک فوج کے جوان اور 4 شہری شہید ہوئے، کارروائیوں کے دوران 54 دہشت گرد بھی مارے گئے۔دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا۔وہ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، زیارت میں پولیس اہلکاروں نے 15 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، زیارت میں 6 جولائی سے دہشتگردوں سے مقابلہ چل رہا تھا، دہشتگردوں نے گھیرا تنگ ہونے پر 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، کوئی مائی کا لعل ریاست پاکستان کو ڈرا یا دھمکا نہیں سکتا، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ 4 روز میں بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے، فتنہ الخوارج نے ہنہ اوڑک میں معصوم لوگوں پر حملہ کیا، دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، زیارت میں پولیس اہلکاروں نے 15 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، زیارت میں 6 جولائی سے دہشتگردوں سے مقابلہ چل رہا تھا، دہشتگردوں نے گھیرا تنگ ہونے پر 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا۔انہوں نے بتایا کہ پہلے دن 9 اہلکار اور دوسرے دن 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے، خاران اور دالبندین میں آج 14 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، مجموعی طور پر 54 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جاچکا، 27 پولیس اہلکار اور پاک فوج کے 11 جوان شہید ہوئے، کارروائیوں کے دوران 42 قیمتی جانیں گئیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].