نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں
نئی دہلی(بی بی سی)انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر پر اب بھی ہزاروں افراد موجود ہیں، جہاں گزشتہ چند منٹوں کے دوران پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والے حفاظتی لباس میں پہنچے اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مظاہرین کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ اس مقام پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں دسیوں ہزار طلبہ، نوجوان اور سماجی کارکن پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ایک مخصوص مقام سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔ اب تک اس احتجاج سے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ بعض مقامات پر پولیں کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھیاں بھی برسائی گئی ہیں اور مظاہرین اور پولیں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ نئی دہلی میں جنتر منتر نامی اس اہم سمجھی جانے والی سڑک پر سے سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کی بڑی تعداد اور حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر نامی ایک اہم سڑک پر موجود ہزاروں مظاہرین کو اس مقام سے ہٹایا جا رہا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے اور سڑک کو خالی کرنے کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اب سے کُچھ دیر قبل احتجاج کے مقام پر موجود بی بی سی ہندی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کو پولیس کی جانب سے محفوظ مقام کی جانب جانے کو کہا گیا۔ گیتا پانڈے کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب مسلسل طلبہ کو احتجاج کے مقام کو خالی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ اس دوران عارضی طور پر بنائے جانے والے سٹیج کو بھی مظاہرین سے خالی کروانے کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی سٹیج تھا کہ جہاں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کی تھی اور جہاں سے احتجاج کے منتظمین تقاریر کر رہے تھے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.