کراچی میں نادرا افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ درج، صحافتی و انسانی حقوق تنظیموں کا فوری بازیابی کا مطالبہ

کراچی میں نادرا افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ درج، صحافتی و انسانی حقوق تنظیموں کا فوری بازیابی کا مطالبہ
کراچی(بی بی سی)کراچی پولیس نے نادرا کے افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے والد اور سینیئر صحافی سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد سانگی 20 جولائی کی شام چھ بجے لاپتہ ہوئے۔ مدعی سہیل سانگی نے بیان دیا ہے کہ ان کے بیٹے نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے۔ سہیل سانگی کے مطابق جب فیاض احمد سانگی معمول کے مطابق گھر نہیں پہنچے تو اہلِ خانہ نے ان کے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم فون بند ملا۔ بعد ازاں ان کے ساتھیوں سے رابطہ کیا گیا، جنھوں نے بتایا کہ فیاض احمد سانگی شام چھ بجے دفتر سے گھر کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ مدعی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ انھوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور فیاض احمد سانگی کا سراغ لگا کر ان کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ فیاض احمد سانگی کے لاپتہ ہونے پر کراچی پریس کلب، سندھ پولیس اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیاض احمد کی گمشدگی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور متعلقہ ادارے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔ پریس کلب کے مطابق فیاض احمد نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں بطور افسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ روز شام تقریباً چھ بجے اپنی سفید رنگ کی سوزوکی آلٹو کار میں دفتر سے روانہ ہوئے تھے، تاہم دفتر سے نکلنے کے کچھ دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ کراچی پریس کلب نے وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی سرکاری افسر کا دفتر سے نکلنے کے بعد اچانک لاپتہ ہو جانا ایک سنگین معاملہ ہے جس کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ پریس کلب کے مطابق اگر اس واقعے میں کسی فرد یا گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ کراچی پریس کلب نے یہ بھی کہا ہے کہ صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی یقینی نہ بنائی گئی تو صحافی برادری سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر پولیس حکام سینیئر صحافی سہیل سانگی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور فیاض احمد کی تلاش کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ پولیس یونٹس نے اہل خانہ سے ضروری معلومات حاصل کر لی ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اس معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ سندھ پولیس نے سہیل سانگی، ان کے اہل خانہ، صحافی برادری اور سول سوسائٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لائی جائے۔ فیاض احمد کے اہل خانہ نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی ہے اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی جلد از جلد اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.