کوئٹہ(بی بی سی)بلوچستان کے تین مختلف اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ لاشیں قلات، سوراب اور خاران سے ملی ہیں اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
سات میں سے تین لاشیں ضلع قلات سے ملیں۔ قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو لاشیں ریج کے علاقے سے جبکہ ایک لاش چھپر سے ملی۔
انھوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد کی موت گولیاں لگنے اور تشدد کے باعث ہوئی۔ ان کے بقول تینوں افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید تین افراد کی لاشیں قلات سے ملحقہ ضلع سوراب سے ملیں ہوئیں۔
سوراب میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ان افراد کو کہاں اور کن حالات میں قتل کیا گیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق ان تینوں افراد کی شناخت بھی تاحال نہیں ہو سکی۔ سوراب منتقل کی جانے والی لاشوں کے چہروں پر بھی گولیوں کے نشانات موجود تھے۔
ساتویں لاش ضلع خاران میں سی پیک روڈ کے قریب سے برآمد ہوئی۔ سرکاری حکام کے مطابق مقتول کی شناخت حافظ کبیر ایجباڑی کے نام سے ہوئی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چند روز قبل خاران میں حافظ کبیر کے گھر پر حملہ کیا تھا، جس میں ان کا ایک بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد مسلح افراد حافظ کبیر اور ان کے ایک اور بیٹے کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
دو روز بعد حافظ کبیر کی لاش سی پیک روڈ کے قریب سے ملی، جبکہ ان کے دوسرے بیٹے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].