پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کا فیصلہ،مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اہم اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس، پیر کو مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب

پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کا فیصلہ،مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اہم اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس، پیر کو مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب
اسلام آباد(پ ر)اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیف وہپ ملک عامر ڈوگر، صوبائی صدر خیبر پختون خوا پاکستان تحریک انصاف جنید اکبر، ڈاکٹر امجد حمید حسین ،پاکستان پارلیمانی لیڈر پاکستان تحریک انصاف شاہد خٹک،رہنما پاکستان تحریک انصاف ڈاکٹر شفقت ایاز ،ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی جےیوآئی کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، سنیٹر کامران مرتضٰی، سنیٹر مولانا عبدالواسع، ایم این اے مولانا مصباح الدین ، انجنئیر ضیاء الرحمان، مولانا جمال العین شریک تھے مرکزی چیف آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین پاکستان سید ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید،اسد عباس، پارلیمانی لیڈر مجلس وحدت انجینئر حمید حسین ایم این اے ،مرکزی راہنما مجلس وحدت سید شہر یار بخاری، سید ظہیر نقوی ،سلیم عباس صدیقی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں سمیت اہم اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، امن و امان اور معاشی صورتحال سمیت اہم قومی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر متحدہ اپوزیشن کے قیام اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطہ و تعاون کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور امن و امان کے مسائل کا جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ کی مشترکہ پارلیمانی اور سیاسی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اجلاس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف قائم مقدمات کو سیاسی نوعیت کے مقدمات قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے پر زور دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی صورت عدالتی احکامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں، شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ متعدد آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر حکومت سے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور عملی عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے امن و امان کے حوالے سے صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ملک کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے فوری، ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اجلاس میں ملک کی سنگین معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بالخصوص خیبرپختونخوا میں صنعتوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور صوبے کو درپیش معاشی مشکلات پر توجہ دلائی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے محض اعلانات کے بجائے جامع اور مؤثر معاشی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک پہلے ہی بدامنی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے، ایسے حالات میں نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی معاملے کو عجلت میں آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع تر مشاورت اور قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کشمیری عوام کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کشمیری قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرات اور مسئلے کے سیاسی حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حالات میں چھوٹی سیاسی مصلحتوں کے بجائے ملک کی بقا، آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو ترجیح دینا ہوگی۔ پاکستان کسی فردِ واحد کی ملکیت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ملک ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار، شہری آزادیوں، عدلیہ کے احترام اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحد، مؤثر اور مشترکہ سیاسی و پارلیمانی کردار ادا کریں گی اور ملک کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.