ایسے کوتاہ قد لوگوں پر خدا کی مار پڑے جو اپنے سے تین گنا دیوقامت شخص پر کیچڑ اُچھال اُچھال کر اس کی کرسی کو گندی کردی۔ جو شخص اسلام آباد گیا تھا وہ ورکر سے اُٹھے ورکروں کے درمیان بیٹھنے اور عسکری قائدین کو سننے گا تھا۔ جنہیں پہلی لائن کی کرسی پر بیٹھنے یا ورکشاپ سے کچھ کہنے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ عینی شاید محترمی و مکرمی صدیق کھیتران کے مطابق عزت مآب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صاحب کے لیے پہلی لائن میں کرسی خالی تھی، مگر وہ یہ کہہ کر اسے ٹھکرادی کہ وہ ورکر سے اٹھے ہیں اور ورکروں کے درمیان بیٹھنا پسند کریںگے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں ان کے صف میں کوئی ورکر شرکر نظر نہیں آرہا تھا،اور ڈاکٹر صاحب کی پہلو والی کرسی اور اس کرسی کے پہلو والی کرسی پرخواتین تشریف فرما نظر آرہی تھیں، مگر ان کے رنگ و ڈھنگ سے یہ پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ورکر زادیاں ہیں یا ایلیٹ کلاس کے شہزادیاں ہیں ۔
یہ گواہی بھی محترم صدیق کھیتران صاحب نے دی کہ عسکری قائد اور ورکشاپ کے روح ِ روان فیلڈ مارشل حافظ سید منیر عاصم صاحب نے موصوف کو مظلوم بلوچستان کے مسئلے پر لب کشائی کی دعوت دی، مگر عزت مآب ڈاکٹر صاحب نے اس پیشکش کو بھی جوتے کی نوک پر ٹھوکرادی کہ وہ سنانے نہیں بلکہ سننے کے لیے تشریف لائے ہیں۔
پھر محترم صدیق کھیتران نے تیسری گواہی بھی دے ڈالی کہ فیلڈ مارشل نے محترم ڈاکٹر صاحب کے وزارت اعلیٰ کے دوران کے پہلے الفاظ میں کام دوسرے الفاظ میں خدمات کی بھی سنہری الفاظ میں تعریف کی ہے ، اور کہا ہے کہ بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کے منصب پر فائز ماضی میں ایسے خدمت گزار اور فرمانبر وزیر اعلیٰ اور کوئی نہیں گزرا ہے۔ تاہم موجودہ وزیر اعلیٰ کی بات اور ہے۔
پارٹی کے صوبائی صدر محترم اسلم بلوچ صاحب نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ یہ کوتاہ قدلوگ خوامخواہ ڈاکٹر صاحب پر تنقید کرتے ہیں ۔ اصل بات پہلی لائن کی کرسی اور ورکشاپ میں لب کشائی کی نہیں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ عزت مآب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صاحب اس عقیدے سے تعلق رکھنے والے فرقے سے ہیں جن کا یقین ِ کامل ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل عسکری قیادت ہی کے قدموں میں پوشیدہ ہے۔ اس لیے انہوں نے ان کے زیر اہتمام ورکشاپ میںتشریف لے گئے۔ اور جن کا یہ یقین ہو تو وہ جاکر کسی بھی لائن کی کرسی پر تشریف رکھے ، اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا،جو جن کوسننے کے لیے تشریف لے گئے ہیں وہ انہیں کچھ نہیں سنائے گا؟
ویسے بھی سیانے لوگ سہانے خواب دیکھتے ہیں، اور سہانے خوابوں کی تعبیر کے لیے راتیں بیٹھ کر تدبیر کرتے ہیں۔ موصوف نے پہلی لائن کی میں بیٹھنے کے بجائے دوسری لائن میں بیٹھنے کو ترجیح دی ، اسی لیے کہ قائد سمجھا سکے کہ ان میں یہ غرور کبھی نہیں دیکھ پائوگے کہ وہ اپنے منصب کا تعین آپ کی رضامندی سے متصادم کریںگے، اسی طرح ورکشاپ سے بات سنانے کے بجائے بات سننے کو ترجیح تاکہ قائد کو یقین ہوکہ بندہ فرمانبردار ہے، ہمےں سنائے گا نہیں بلکہ ہماری بات سنے گا۔
ہماری دعا ہے کہ اس معاہدے ے مطابق ?âجس کا بانی ڈاکٹر موصوف خود ہیں جنہوں نے 2013ئ کے عام انتخابات کے نتیجے میں ڈھائی سالہ حکومت کا فارمولہ ’’مری معاہدے‘‘ کے تحت ایجاد کیا?á ستمبر میں موجودہ وزیر اعلیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنی جینوئن کرسی پر تشریف رکھیں گے اور اسلام آباد کے ورکشاپ میں اپنی عسکری قیادت اور کُلیکس کو سنا اور سیکھا، ان کے زرین خیالات اور تجاویز کی روشنی میں اپنے ڈھائی سالہ حکومتی دور میں من و عن اقدامات اٹھا کر عمل درآمد کرکے عملی جامہ پہنائیں گے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].