جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب !آپ آج پاکستان کے مفادات کے لیے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں مشکل حالات میں ملک کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں اور مختلف بحرانوں میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں قوم اس کردار کو دیکھ رہی ہے لیکن ایک سوال آج پاکستان کے اندر بھی گردش کر رہا ہے جب آپ بیرونی محاذ پر پاکستان کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں تو کیا اب وقت نہیں آگیا کہ اندرونی بحران کو سمیٹنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں کیونکہ آج پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ کسی ایک بیرونی محاذ سے نہیں بلکہ سیاسی بے یقینی معاشی جمود ادارہ جاتی کمزوری بڑھتی ہوئی مہنگائی کاروباری تباہی اور عوامی اعتماد میں کمی سے ہے حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ریاست مستقل ہوتی ہے اس لیے ریاستی مفاد میں کبھی کبھی بڑے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں اور بعض جگہ ایک قدم آگے بڑھنے کے لیے ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے پاکستان کو چلایا جا رہا ہے لیکن ترقی نہیں ہو رہی آج عام آدمی کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کی آمدنی محدود اور اخراجات بے قابو ہیں بجلی گیس اور پٹرول پر ٹیکس روزمرہ اشیاء کی قیمتیں کاروباری اخراجات اور بے روزگاری نے متوسط اور سفید پوش طبقے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے
ریاست کو آمدنی چاہیے ذر مبادلہ چاہئے لیکن پاکستان کا زرمبادلہ نہ ہونے کے برابر ہے اندرونی ملک یہ بھی سوچنا ہوگ کہ جس عوام سے ٹیکس لیا جا رہا ہے اگر وہی عوام معاشی طور پر ختم ہو جائے تو ٹیکس دینے والا بچے گا کون کاروبار بند ہوں گے تو روزگار کہاں سے آئے گا صنعت کمزور ہوگی تو برآمدات کیسے بڑھیں گی سرمایہ کار غیر یقینی میں ہوگا تو نئی سرمایہ کاری کیسے آئے گی اس وقت پاکستان کو صرف مالیاتی نظم نہیں اقتصادی نمو چاہیے ہمیں ایسا بجٹ اور معاشی نظام چاہیے جو حکومت کا خزانہ ہی نہ بھرے بلکہ عوام کی جیب بھی بھرے سب سے پہلے سیاسی درجہ حرارت کم کرنا ہوگا کوئی ملک مستقل سیاسی کشیدگی میں ترقی نہیں کر سکتا سرمایہ کار کو قانونی تحفظ چاہیے سیاسی استحکام چاہئےاور عام شہری کو یہ یقین چاہیے کہ کل کیا ہوگا اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر لانے کی ضرورت ہے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے نظام کو مضبوط کرنے پر متفق ہوں
انتخابات کے نظام الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں اور انتخابی عمل پر جو بھی سوالات ہیں ان کا شفاف اور غیر جانب دارانہ حل تلاش کیا جائے ملک میں حقیقی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت ہی مشکل فیصلے کرنے کی اخلاقی جرآت رکھتی ہے
اداروں کو شخصیات نہیں نظام مضبوط بناتا ہے پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اداروں کے بجائے افراد سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں ایک اچھا افسر آتا ہے تو امید بندھ جاتی ہے وہ چلا جائے تو نظام دوبارہ وہیں پہنچ جاتا ہے ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں اچھا کام کسی فرد کی وجہ سے نہیں بلکہ قانون میرٹ احتساب اور ادارہ جاتی تسلسل کی وجہ سے ہو سزا اور جزا کا نظام بحال کیے بغیر نہ کرپشن ختم ہوگی نہ حکومتی مشینری مؤثر ہوگی این ایف سی سے بلدیات اداروں کے زریعے عوام تک پہنچنا چاہیے پاکستان میں وسائل کی تقسیم کا مقصد صرف صوبائی خزانے بھرنا نہیں ہونا چاہیے این ایف سی کے وسائل کا اثر اس وقت نظر آئے گا جب وہ ضلع تحصیل شہر اور یونین کونسل تک پہنچیں گے
اس کے لیے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ناگزیر ہے
اختیار اسلام آباد سے صوبے صوبے سے ضلع اور ضلع سے گراس روٹ تک منتقل کرنا ہوگا جب شہری اپنے محلے کی سڑک پانی صفائی بنیادی صحت اور تعلیم کے لیے براہِ راست ذمہ دار نمائندے سے جواب طلب کر سکے گا تو حکمرانی کا معیار خود بہتر ہوگا اور پھر بلوچستان جہاں قومی بحران سب سے زیادہ نمایاں ہے بلوچستان کو پاکستان کے مجموعی بحران سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا یہاں سیاسی معاشی انتظامی اور سکیورٹی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایک طرف وسیع رقبہ معدنی وسائل ساحل زراعت اور نوجوان آبادی ہے دوسری طرف روزگار کے مواقع محدود صنعت نہ ہونے کے برابر سفری مشکلات شدید اور کئی علاقوں میں امن و امان ایک بڑا مسئلہ ہے بلوچستان میں صرف سکیورٹی پالیسی کافی نہیں سیاسی معاشی اور سماجی پالیسی ایک ساتھ چلانا ہوگی بلوچستان کے خاموش لوگوں سے بات کیجیے صوبے میں آج بھی ایسے سیاسی رہنما قبائلی عمائدین سماجی کارکن دانشور اور عوامی شخصیات موجود ہیں جو حالات کو سمجھتے ہیں اور مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں بہت سے لوگ مایوسی کے باعث خاموش ہیں
انہیں دشمن نہیں شراکت دار سمجھا جائے جو شخص پاکستان کے آئین کے اندر رہ کر بلوچستان کے مسائل کی بات کرتا ہے اس سے مکالمہ ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ ریاست کی طاقت ہے ہر اختلاف غداری نہیں ہوتا اور ہر خاموشی وفاداری کی علامت نہیں ہوتی یہ فرق جتنا جلد سمجھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے امن کا مطلب صرف چیک پوسٹیں نہیں
بلوچستان میں سکیورٹی ضروری ہے لیکن سکیورٹی کا مقصد شہری کو محفوظ بنانا ہے اگر ایک عام مسافر سڑک پر خوف محسوس کرے ٹرینوں کا سفر محدود ہو ہوائی سفر عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو اور کاروباری شخص اپنا مال ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے میں غیر محفوظ محسوس کرے تو یہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کا مسئلہ بھی ہے سکیورٹی اداروں پر خطیر وسائل خرچ ہوتے ہیں اب اس خرچ کے ساتھ کارکردگی کا شفاف جائزہ بھی ہونا چاہیے جہاں ضرورت ہو وہاں وسائل بڑھائے جائیں جہاں نظام میں خرابی ہو اسے درست کیا جائے اور جہاں شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہو وہاں طریقہ کار تبدیل کیا جائے
بلوچستان میں افسر پوسٹنگ نہیں مشن لے کر جائے
ایسے افسران تعینات کیے جائیں جو مقامی حالات سمجھنے عوام سے رابطہ کرنے سیاسی و سماجی قیادت کو سننے اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
بلوچستان کو ایسے منتظمین چاہئیں جو اپنی کارکردگی سے ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ کم کریں روزگار اور تعلیم کو سکیورٹی پالیسی کا حصہ بنائیے اسی طرح تعلیم میں ہر سال نیا تجربہ کرنے کے بجائے طویل المدتی پالیسی بنائی جائے ایک ہاتھ میں روزگار اور دوسرے ہاتھ میں کتاب ہوگی تو شدت پسندی کے لیے جگہ خود بخود کم ہوگی
جناب فیلڈ مارشل صاحب
اگر واقعی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ہے تو میری نظر میں درج ذیل دس اقدامات فوری قومی ایجنڈا بننے چاہئیں
1 تمام سیاسی قوتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کے ذریعے سیاسی درجہ حرارت کم کیا جائے
2 انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن کو غیر جانب دار شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے جامع اصلاحات کی جائیں
3 حکومت پارلیمنٹ عدلیہ بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں کے آئینی کردار کو واضح اور مضبوط کیا جائے
4 معیشت کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نکال کر پیداوار صنعت برآمدات اور سرمایہ کاری کی طرف لے جایا جائے
5 این ایف سی وسائل اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں مکمل شفافیت اور گراس روٹ تک رسائی یقینی بنائی جائے ہر صوبے میں صوبائی فنانس کمیشن بنایا جائے
6 بلدیاتی اداروں کو مستقل آئینی و مالیاتی بنیادوں پر بااختیار کیا جائے
7 بلوچستان کے لیے ایک خصوصی سیاسی معاشی اور انتظامی اعتماد سازی پیکیج بنایا جائے
8 بلوچستان کے حقیقی سیاسی سماجی اور قبائلی اسٹیک ہولڈرز سے براہِ راست مکالمہ شروع کیا جائے
9 کرپشن سرکاری املاک کی بندربانٹ ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی نااہلی کے خلاف بلاامتیاز احتساب کا نظام فعال کیا جائے
10 پورے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں امن کے ساتھ ساتھ روزگار تعلیم صحت صنعت اور محفوظ سفری نظام کو قومی ترجیح بنایا جائے
جناب فیلڈ مارشل صاحب پاکستان کو ایک نئی سمت چاہیے
یہ کالم کسی حکومت کے خلاف نہیں کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں نہیں اور کسی ادارے کو کمزور کرنے کے لیے نہیں لکھا جا رہا یہ اس ملک کے عام شہری کی آواز ہے جو مہنگائی سے پریشان ہے تاجر جو غیر یقینی سے خوفزدہ ہے نوجوان جو روزگار چاہتا ہے طالب علم جو بہتر تعلیم چاہتا ہے اور بلوچستان کا وہ شہری جو اپنے ہی ملک میں امن عزت اور محفوظ سفر کا حق مانگتا ہے آپ کے پاس اثر و رسوخ ہے طاقت ہے ریاستی معاملات کا تجربہ ہے اور دنیا پاکستان کو آپ کی بات سنتے ہوئے دیکھ رہی ہے اب اسی وزن کو ملک کے اندر سیاسی مفاہمت ادارہ جاتی اصلاح معاشی بحالی اور بلوچستان میں اعتماد سازی کے لیے استعمال کرنے کا وقت ہے یہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے اور یہی ہماری قومی سالمیت کی اصل ضمانت بھی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].