پنجپائی کے راستے پیاز اور ہمسایہ ممالک کی سبزی و فروٹ کی اسمگلنگ بلوچستان کے زمینداروں کا معاشی قتل ہے، زمیندار ایکشن کمیٹی

پنجپائی کے راستے پیاز اور ہمسایہ ممالک کی سبزی و فروٹ کی اسمگلنگ بلوچستان کے زمینداروں کا معاشی قتل ہے، زمیندار ایکشن کمیٹی
کوئٹہ(پ ر) زمیندار ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے پنجپائی کے راستے پیاز سمیت ہمسایہ ممالک سے پھلوں اور سبزیوں کی مبینہ بڑے پیمانے پر اسمگلنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر درآمد ہونے والی زرعی اجناس کی بھرمار نے بلوچستان کے مقامی زمینداروں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جس کے باعث صوبے کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے زمیندار سال بھر شدید موسمی حالات، پانی کی قلت، بجلی اور زرعی ٹیوب ویلوں کے مسائل، مہنگی کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر پیداواری اخراجات برداشت کرکے پیاز، ٹماٹر، سیب، انگور، کھجور اور دیگر پھل و سبزیاں پیدا کرتے ہیں، لیکن جب مقامی فصل مارکیٹ میں آتی ہے تو اسمگل شدہ اور غیر قانونی طور پر لائی جانے والی زرعی اجناس مارکیٹ میں پہنچ کر مقامی پیداوار کی قیمتیں گرا دیتی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پنجپائی کے راستے پیاز اور دیگر زرعی اجناس کی اسمگلنگ نہ صرف ملکی قوانین اور تجارتی نظام کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ بلوچستان کے ہزاروں زمیندار خاندانوں کے معاشی مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ مقامی زمیندار کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملتی، جبکہ دوسری جانب اسمگل شدہ مال کم قیمت پر مارکیٹ میں دستیاب ہونے کے باعث مقامی پیداوار کی طلب اور قیمت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمیندار پہلے ہی پانی کی شدید قلت، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، سیلاب، بجلی کی عدم دستیابی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر بیرونِ ملک سے غیر قانونی طور پر پھل اور سبزیاں مارکیٹ میں لائی جائیں گی تو مقامی زرعی معیشت کے لیے صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایک زمیندار جب اپنی فصل تیار کرتا ہے تو اسے پیداواری لاگت، مزدوری، پانی، کھاد، بیج اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مناسب منافع کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اسمگلنگ کے باعث مارکیٹ میں قیمتیں مصنوعی طور پر کم ہونے سے زمیندار اپنی فصل لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ صورتحال دراصل بلوچستان کے زمینداروں کا معاشی قتل عام ہے۔ ترجمان نے وفاقی اور صوبائی حکومت، محکمہ کسٹمز، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ پنجپائی سمیت بلوچستان کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور پھلوں و سبزیوں کی غیر قانونی نقل و حمل اور اسمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مقامی زراعت کے تحفظ کے لیے ایسی مؤثر پالیسی تشکیل دینی چاہیے جس کے تحت مقامی فصل کی مارکیٹ میں دستیابی، مناسب قیمت اور زمینداروں کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔ اگر مقامی پیداوار کے سیزن میں غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک سے زرعی اجناس کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو بلوچستان میں زراعت سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار شدید متاثر ہوگا۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت صرف اسمگلنگ کی روک تھام تک محدود نہ رہے بلکہ بلوچستان کے زمینداروں کو پیداواری لاگت میں کمی، سستی بجلی، زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کی فراہمی، معیاری بیج و کھاد، کولڈ اسٹوریج، مارکیٹ تک رسائی اور فصلوں کے لیے منافع بخش نرخوں کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پنجپائی اور دیگر راستوں سے اسمگل ہونے والے پیاز، پھلوں اور سبزیوں کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مقامی زمیندار اپنی زمینوں پر کاشتکاری ترک کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے نہ صرف بلوچستان کی زرعی معیشت متاثر ہوگی بلکہ مستقبل میں صوبے کے غذائی تحفظ اور روزگار کے مسائل بھی مزید سنگین ہوجائیں گے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.