ترجیحات

ترجیحات
بلوچستان ہائی کورٹ نے 7 ستمبر 2026 کو دو نوٹیفکیشنز کے ذریعے بلوچستان بار کونسل کے 2 اپریل 2026 کے بعد جاری کردہ پریکٹسنگ لائسنسز کو غیر مؤثر قرار دے کر ان کا پیشہ ورانہ تجربہ شمار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی بار کونسل کو تمام متعلقہ کیسز Enrolment Committee کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جہاں کامیاب امیدواروں کو ان کی اصل تاریخِ اہلیت سے لائسنس دیا جائے گا۔ یوں اس معاملے پر صوبے بھر کی ضلعی عدالتوں، خصوصی عدالتوں اور ٹربیونلز کو باقاعدہ متحرک کیا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہائی کورٹ کو قانونی بے قاعدگی درست کرنے کا اختیار ہے یا نہیں، بلکہ سوال عدالتی ترجیحات کا ہے۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں بنیادی حقوق، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست، مقدمات کے انبار اور ریاستی طاقت کے احتساب جیسے سنگین مسائل عدالتی نظام کا منہ چڑا رہے ہوں، وہاں وکلاء کے لائسنس اور انٹرویوز پر اس غیر معمولی institutional authority کا استعمال حیران کن ہے۔ یہ تضاد محض انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ انصاف کی ترجیحات اور خستہ حالی پر ایک سنگین سوال ہے۔ ان نوٹیفکیشنز کو اگر بلوچستان میں عدل و انصاف کی مجموعی حالت کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہائی کورٹ نے وکلاء کے لائسنسوں کے بارے میں ایک سخت انتظامی حکم جاری کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسا نظامِ انصاف، جو خود بنیادی انصاف، شہری آزادیوں، عدالتی خودمختاری، مقدمات کے بروقت فیصلے اور ریاستی طاقت کے احتساب کے میدان میں شدید بحران کا شکار ہے، اپنی محدود institutional energy کن معاملات پر صرف کر رہا ہے۔ World Justice Project کے Rule of Law Index 2025 میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔ بنیادی انسانی حقوق میں 128 ویں، سول جسٹس میں 129 ویں اور Order and Security میں آخری یعنی 143/143 نمبر پر ہے۔ یہ کوئی معمولی statistical embarrassment نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شہری کو ریاست کے مقابلے میں قانون کا تحفظ، مؤثر civil remedies اور overall rule of law انتہائی کمزور سطح پر میسر ہیں۔ شہری آزادی، جبری گمشدگیاں، حراست، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احتساب، فیئر ٹرائل، access to justice، برسوں سے زیر التوا مقدمات، کمزور prosecution، اور ریاستی اختیار کا آئینی حدود میں استعمال صوبے میں اعلی عدلیہ کے سامنے اصل بڑے سوال ہیں۔ لیکن اعلی عدلیہ کی administrative machinery پوری قوت کے ساتھ یہ یقینی بنانے میں مصروف نظر آتی ہے کہ 2 اپریل کے بعد جاری ہونے والا فلاں نوجوان وکیل کا لائسنس ہے یا نہیں۔ یہ تضاد معمولی نہیں۔ یہ عدالتی ترجیحات کا بحران ہے۔ ایک ادارہ جس کا بنیادی constitutional raison d'être طاقتور کے مقابلے میں کمزور شہری کو تحفظ دینا ہے، اگر طاقت کے بڑے مراکز کے سامنے سکڑ جائے مگر اپنے سے کمزور professional bodies اور نوجوان وکلاء کے خلاف extraordinary administrative assertiveness دکھائے، تو مسئلہ صرف قانون کی تشریح کا نہیں رہتا۔ پھر سوال judicial character کا پیدا ہوتا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بارے میں International Commission of Jurists نے صاف کہا تھا کہ اس سے judicial appointments اور judiciary کی internal administration پر غیر معمولی سیاسی اثرورسوخ پیدا ہوا اور عدلیہ کی executive excesses کو check کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ اس ترمیم نے جوڈیشل کمیشن کی composition بدلی، اور چیف جسٹس کے انتخاب میں پارلیمان کو کردار دیا۔ اس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ جب عدلیہ اپنے سب سے بنیادی آئینی میدان میں خود کو کمزور محسوس کرنے لگے تو اکثر institutional energy ایسے domains میں منتقل ہوتی ہے جہاں مزاحمت کم ہو۔ بار کونسل نسبتاً آسان ٹارگٹ ہے۔ نوجوان وکلاء آسان ٹارگٹ ہیں۔ یہاں نہ coercive state machinery سامنے ہے اور نہ existential institutional confrontation، چنانچہ عدالت یہاں پوری قوت سے اپنے اختیار کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نوٹیفکیشن ایک بہت ناخوشگوار تاثر دیتے ہیں۔ جہاں judicial courage درکار ہے وہاں restraint، اور جہاں administrative dominance آسان ہے وہاں غیر معمولی سختی۔ یہی institutional decline کی علامت ہوتی ہے۔ عدالت کی عظمت اس بات سے ثابت نہیں ہوتی کہ اس نے کتنے وکلاء کے licences invalid قرار دیے۔ عدالت کا امتحان یہ ہے کہ جب ایک لاپتہ شہری کی ماں عدالت کے سامنے کھڑی ہو تو state کو جواب دینے پر مجبور کیا جاسکے۔ جب کسی شخص کو خلاف قانون اٹھایا جائے تو اس کی liberty restore ہوسکے۔ جب مقننہ constitutional limits cross کرے تو عدالت "نہیں" کہہ سکے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن پر constitutional judiciary کا stature بنتا یا ٹوٹتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک نوجوان وکیل نے بار کونسل سے لائسنس حاصل کیا، اس کا انٹرویو کس کمیٹی نے لیا، اور اس کے چار مہینے experience میں شمار ہوں گے یا نہیں، یہ مسئلہ administrative correction کے ذریعے حل ہوسکتا تھا۔ اس کے لیے پورے صوبے کے District Judges، Tribunals اور جوڈیشل آفیسرز کو غیر معمولی circular جاری کرنا کسی حد تک institutional overcompensation محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان Rule of Law Index میں 143 میں سے 130ویں نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود عدالتی انتظامیہ کی فوری ترجیح یہ نظر آرہی ہے کہ ایک وکیل کے لائسنس، انٹرویو اور experience certificate کے بارے میں صوبے بھر کو خبردار کیا جائے۔ یہ ایسا ہے جیسے عمارت کی بنیادیں بیٹھ رہی ہوں اور منتظم پوری سنجیدگی سے پردوں کی پیمائش درست کرا رہا ہو۔ عدلیہ کی institutional autonomy بری طرح محدود ہوچکی ہے، constitutional design کے ذریعے executive-political influence بڑھ چکا ہے، اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے احتساب کے معاملے میں judicial space مسلسل سکڑتا دکھائی دیتا ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.