بلوچستان کی سرزمین اپنی سنگلاخ چٹانوں، وسیع و عریض صحراؤں اور طویل ساحلوں کی ہی امین نہیں، بلکہ یہ خطہ علم و ادب، شعر و فن اور فکری شعور کے لحاظ سے بھی نہایت زرخیز اور تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس مٹی سے ایسے نامور ادیب، دانشور، مفکر اور مدبر ستاروں کی مانند ابھرے ہیں، جن کے علم و عمل کی روشنی نے نہ صرف اس سرزمین کے باسیوں کو منور کیا، بلکہ دنیا بھر کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں بھی ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ حال ہی میں بلوچستان کے ممتاز و معروف مصنف اور صاحبِ قلم، جناب آغا گل کی جانب سے اپنی معرکۃ الآرا کتابیں—"آبِ گم"، "گردل" اور "شخصیت و فن" بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور ممبر سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی، جناب غلام نبی مری کو پیش کیا۔ یہ واقعہ محض دو شخصیات کی ملاقات نہیں، بلکہ یہ بلوچستان کی فکری روایت اور سیاسی شعور کے مابین ایک خوبصورت فکری سنگم کی علامت ہے۔ بلوچستان ہمیشہ سے تہذیب و تمدن، ادب اور ثقافت کا ایک قدیم اور تاریخی مسکن رہا ہے۔ مہر گڑھ کی قدیم ترین تہذیب سے لے کر موجودہ دور تک، یہ خطہ منفرد جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) اہمیت، سٹریٹجک محلِ وقوع اور گراں مایہ تمدنی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر کے محققین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اپنے مخصوص جغرافیے اور تزویراتی مقام کی وجہ سے اس دھرتی نے جہاں بے شمار تاریخی انقلابات دیکھے، وہاں اس نے اپنے باسیوں کو ایک الگ نظریاتی پختگی، جراتِ رندانہ اور فکری استقامت بھی عطا کی۔ یہاں کی مٹی میں ایک منفرد سحر ہے جو تاریخ دانوں، شاعروں اور ادیبوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس دھرتی نے کبھی بانجھ پن کا سامنا نہیں کیا، بلکہ ہر دور میں بڑے نابغہ روزگار انسان پیدا کیے۔
جناب آغا گل کا شمار بلوچستان کے ان چند گنے چنے قلم کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے بلوچستان کے حقیقی سماجی، نفسیاتی اور تاریخی پسِ منظر کو ادبی افسانے اور نثر کے قالب میں ڈھالا۔ ان کی تخلیقی کاوشیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس دھرتی کے درد، سسکیوں، اور فکری ابال کا اظہار ہیں۔ "آبِ گم" اور "گردل" جیسی تصانیف جہاں بلوچستان کے گم گشتہ تاریخی اور ثقافتی کرداروں کی بازیافت کرتی ہیں، وہاں یہ یہاں کی سماجی ناہمواریوں اور یہاں کے انسانوں کے اندرونی تضادات اور لازوال داستانوں کی عکاس بھی ہیں۔ "شخصیت و فن" کے ذریعے انہوں نے اس خطے کے معتبر تخلیق کاروں اور مفکروں کے کام کو دستاویزی شکل دے کر آنے والی نسلوں پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ آغا گل جیسے مصنفین دراصل اس دھرتی کے وہ "کاتب" ہیں جو یہاں کی تاریخ، روایات اور سچائیوں کو مٹنے سے بچانے کے لیے دن رات برسرِ پیکار ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کی سیاست اور ادب کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ میر گل خان نصیر جیسے انقلابی شاعروں اور دانشوروں نے ہمیشہ قلم اور سیاست کو عوام کے حقوق کا ہتھیار بنایا۔ اس تاریخی تناظر میں، آغا گل کا اپنی کتابیں بی این پی کے مرکزی رہنما غلام نبی مری کو پیش کرنا اسی دیرینہ روایت کا تسلسل ہے۔
جناب غلام نبی مری کا شمار بلوچستان کے ان سنجیدہ، فکری اور متحرک سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو سیاست کو محض اقتدار کا کھیل نہیں، بلکہ سماج کی فکری بیداری اور غریب و مظلوم طبقات کے حقوق کی بحالی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک صاحبِ قلم اور محقق کی طرف سے ایک قوم پرست سیاسی مدبر کو کتابوں کا یہ تحفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دھرتی کے سچے ادیب اپنی دانش اور علم کو ان سیاسی ہاتھوں میں سونپنا چاہتے ہیں جو اس فکر کو آگے بڑھانے اور سماجی انصاف کی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کسی بھی قوم کی بقا اور اس کی پہچان کا دارومدار اس کی مادی دولت کے ساتھ ساتھ اس کے علمی و ثقافتی سرمایے پر بھی ہوتا ہے۔ بلوچستان کے مقتدر ادیب آغا گل کی کتابیں اس بات کا اعلان ہیں کہ بندوق اور بارود کی دھند کے باوجود، اس دھرتی پر قلم کی روشنی ہمیشہ غالب رہے گی۔ جب تک آغا گل جیسے صاحبِ قلم اپنی تحریروں سے سچائی کے چراغ جلاتے رہیں گے اور غلام نبی مری جیسے مخلص سیاسی رہنما ان چراغوں کی لو کو عوام تک پہنچانے کے لیے آمادہ رہیں گے، تب تک بلوچستان کی تہذیب، اس کا تمدن اور اس کی علم و ادب سے مالا مال مٹی دنیا بھر میں اپنی چمک دکھاتی رہے گی اور یہاں کے طالب علموں کی علمی پیاس بجھاتی رہے گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].