اسلام آباد۔ (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں طویل عرصے سے برقرار اندراج کو محض کلریکل یا حسابی غلطی قرار دے کر مختصر کارروائی کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ ملکیت یا قبضے کے متنازع حقوق کا فیصلہ مجاز سول عدالت یا متعلقہ فورم پر مکمل شواہد اور فریقین کو سماعت کا موقع دے کر کیا جانا ضروری ہے۔تین رکنی بنچ نے جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بنچ نے محمد اشرف رانا و دیگر کی جانب سے دائر ایف سی پی ایل اے نمبر 423/2025 پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 اکتوبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر جوڈیشل-VII کا 15 مارچ 2018 کا حکم بحال کر دیا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ متنازع 15 مرلہ اراضی کا ریکارڈ 1971-72 کی سیٹلمنٹ کے دوران تبدیل ہوا تھا اور تقریباً 44 سال تک یہ اندراج برقرار رہا۔
ایسی صورت میں یہ طے کرنا ضروری تھا کہ تبدیلی کسی باقاعدہ سیٹلمنٹ کارروائی کا نتیجہ تھی یا محض غلطی، جس کے لئے باقاعدہ تحقیقات درکار تھیں۔عدالت نے واضح کیا کہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 166 کے تحت اختیار محدود نوعیت کا ہے اور اس کے ذریعے صرف کلریکل یا حسابی غلطیوں یا اتفاقی لغزشوں کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اس اختیار کو حتمی سیٹلمنٹ کارروائی دوبارہ کھولنے یا متنازع ملکیتی و قابضانہ حقوق کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی اندراج کو صرف ’’تصحیح‘‘ کا نام دینے سے وہ کلریکل غلطی نہیں بن جاتا، بلکہ اس امر کا تعین ضروری ہے کہ مبینہ غلطی کی نوعیت کیا ہے، اس کی اصلاح کے لیے کس قسم کی تحقیقات درکار ہیں اور اس تبدیلی سے متعلقہ افراد کے حقوق اور قبضے پر کیا اثر پڑے گا۔وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ میں قرار دیا کہ ریونیو اندراجات بذات خود ملکیت کا حق پیدا نہیں کرتے تاہم انہیں درست تصور کیے جانے کا قابل تردید قانونی مفروضہ حاصل ہوتا ہے۔ طویل عرصے سے برقرار اندراجات کو محض زبانی دعووں کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ملکیت یا قبضے کے متنازع دعووں کا فیصلہ مجاز سول عدالت سے کرایا جانا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریونیو حکام کے اختیار سے متعلق قانونی ممانعت کو اس حد تک وسیع نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملکیت یا دیگر بنیادی حقوق کے متنازعہ معاملات کے عدالتی فیصلے میں رکاوٹ بن جائے۔ ریونیو ریکارڈ کی محض تصحیح اور بنیادی حقوق کے تعین میں واضح فرق موجود ہے۔فیصلے میں قرار دیا گیا کہ درخواست گزاروں کا قبضہ اور تعمیرات بھی متاثر ہو رہی تھیں لیکن انہیں اصل کارروائی میں فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس لیے ضلعی کلکٹر کی کارروائی صرف ریونیو ریکارڈ کی تصحیح نہیں بلکہ متنازع حقوق کے تعین کے مترادف تھی، جو قانونی اختیار اور مناسب کارروائی کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ اپیل دائر کئے جانے کے بعد بھی ابتدائی کارروائی میں فریقین کو مؤثر سماعت کا موقع نہ دینے کی خامی دور نہیں ہوئی۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زمین کو ’’شملات دیہ‘‘ قرار دیئے جانے سے ازخود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مکمل طور پر ریاست یا کسی دوسرے عوامی ادارے کی ملکیت ہے یا اس پر قابض ہر شخص تجاوز کنندہ ہے۔ شملات دیہ سے متعلق حقوق کا تعین متعلقہ ریونیو ریکارڈ، واجب العرض، زمین کے مقصد، دیہہ کے مالکان کے حصص اور قابل اطلاق قانون کی روشنی میں کیا جانا ہوگا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس کے فیصلے سے درخواست گزاروں کو زمین کی ملکیت نہیں ملتی، نہ کسی تجاوز کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کسی مجاز فورم کے سامنے قانونی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
ملکیت، قبضے، شملات دیہ میں حصص اور تعمیرات کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات مجاز فورم پر شواہد اور فریقین کو سماعت کا موقع دے کر طے کیے جا سکتے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بورڈ آف ریونیو پنجاب کے 15 مارچ 2018 کے حکم کو بحال کر دیا، جبکہ فریقین کو اپنے اپنے اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت کی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].