جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، طلال چودھری کا الزام

جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور  پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، طلال چودھری کا الزام
اسلام آباد۔(اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ والے دن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نےبھی احتجاج کی کال دی ،ہمسایہ ملک اپنی پراکسی سے پاکستان کو عدم استحکام کرنا چاہتا ہے ۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ کچھ روز قبل میڈیا کے سامنے ایک ایسے گروہ کے حوالے سے حقائق پیش کیے گئے تھے جو ہمسایہ ملک سے غیر قانونی طور پر اسلحہ پاکستان لاتا اور ملک میں بعض گروہوں کو فراہم کرتا تھا۔ آج اسی معاملے کی تحقیقات کے اگلے مرحلے میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، جبکہ مزید فون کالز اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ طلال چودھری نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیر نے وہی تاریخ احتجاج کے لیے مقرر کی تھی جو پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لیے رکھی تھی۔ دونوں کے احتجاج کے طریقۂ کار اور دیگر کئی معاملات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طویل مذاکراتی نشست کے بعد بھی معاملہ کامیاب نہ ہوسکا۔ وزیر داخلہ اس حوالے سے حقائق، پس منظر اور دیگر تفصیلات پریس کانفرنس میں سامنے رکھیں گے تاکہ معلوم ہوسکے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے سیاسی مفاد کے لیے صوبے میں بدامنی سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور اپنی جمہوری، آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس روز پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تھا، اسی روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی احتجاج اور ہڑتال کی کال دی، جسے کشمیر کے عوام نے یکسر مسترد کردیا۔ اسی طرح انتخابات میں آزاد کشمیر اور کشمیری عوام کو حصہ لینے سے روکنے اور انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے سے محروم رکھنے کی کوشش تین مراحل میں کی گئی، تاہم تینوں مراحل میں بڑی تعداد میں لوگوں نے انتخابی عمل میں حصہ لے کر اس کال اور مہم کو مسترد کردیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ کوشش یہ تھی کہ کسی طرح کشمیر کے عوام کو اپنے فیصلے سے روکا جائے اور دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ کشمیریوں کے فیصلے کوئی اور کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اس میں بھی ناکامی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ محض سیاسی تحریک نہیں ہے۔ ہمسایہ ممالک نے جب براہ راست کارروائی کی تو انہیں دو سال قبل ہونے والی شکست آج تک نہیں بھولی۔ اسی لیے پاکستان کے خلاف پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھائی گئی۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود پراکسیز، ان کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور دیگر نیٹ ورک استعمال کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔طلال چودھری نے کہا کہ اگر ان پراکسیز کا سیاسی افراد، گروہوں یا سیاسی جماعتوں کے اندر موجود لوگوں سے گٹھ جوڑ ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی لوگ ان عناصر کو استعمال کر رہے ہیں یا عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر اور پراکسیز سیاسی لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے مختلف خدشات سامنے آنے کے بعد ضیا نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ آٹھ برس سے غیر قانونی اسلحے کے کاروبار میں ملوث تھا۔ تحقیقات کے مطابق ان آٹھ برسوں کے دوران اس کے روابط سردار امان اور اس کے قریبی ساتھی ماجد سے قائم ہوئے۔وزیر مملکت کے مطابق ضیا نے اسلحے کا آرڈر دیا، افغانستان میں زرغون نامی شخص سے اسلحہ حاصل کیا، جو وہاں سے پاکستان کے قبائلی علاقے تک پہنچا۔ بعد ازاں اکبر نامی ایک سرکاری ملازم نے اپنی ملازمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اسلحہ کشمیر تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ جب یہ حقائق سامنے آئے تو پریس کانفرنس کے ذریعے تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھی گئیں۔ اس کے بعد مزید تحقیقات ہوئیں اور تین مزید افراد کو گرفتار کیا گیا۔طلال چودھری نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری سے قبل سردار امان اپنی پریشانی کا اظہار کر رہے تھے اور کوشش کی گئی کہ گرفتار شخص کو طبی اور ذہنی طور پر غیر موزوں ثابت کیا جائے تاکہ معاملے کی ذمہ داری ان تک نہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ مختلف افراد، ڈاکٹروں اور دیگر لوگوں سے رابطہ کرکے کوشش کی گئی کہ سابقہ تاریخوں میں ایسے طبی سرٹیفکیٹس تیار کرائے جائیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ گرفتار شخص ذہنی طور پر بیمار ہے۔ جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو اس کے گھر والوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اسے ذہنی طور پر غیر موزوں قرار دیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف یہ کوششیں جاری تھیں جبکہ دوسری طرف ایک ایسے شخص کی گرفتاری کے بعد بھی، جو گزشتہ آٹھ برس سے کشمیر میں اسلحہ فراہم کر رہا تھا، دیگر افراد کے ذریعے اسلحے کی فراہمی جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی کال سامنے آتی ہے، اس کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی اور اس کے نتیجے میں لوگ ہلاک ہوئے۔ اگر سکیورٹی فورسز طاقت کا بے دریغ استعمال کرنا چاہتیں تو تقریباً سوا سو روز سے جاری احتجاج اور دھرنے کے دوران، خصوصاً رات یا شام کے وقت جب وہاں چند ہی لوگ موجود ہوتے، انہیں وہاں سے ہٹانا مشکل نہیں تھا۔طلال چودھری نے کہا کہ آج تک طاقت کے استعمال میں پہل سکیورٹی فورسز نے نہیں کی۔ اس سے پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ احتجاج کے دوران سنائپر رائفلز اور خودکار ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کسی اہلکار کے زخمی یا شہید ہونے کی صورت میں پوسٹ مارٹم سے گولی کی نوعیت اور فائرنگ کے زاویے کا تعین کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنائپر رائفلز اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال کی ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پہلے احتجاج کے ذریعے انتخابات رکوانے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ پہلے مرحلے میں میرپور اور آزاد کشمیر کے لاکھوں افراد ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے۔ اسی روز اس عمل کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے پرتشدد احتجاج شروع کیا گیا، جس میں بعض ہلاکتیں ہوئیں اور الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سو سے سوا سو روز سے لوگ دھرنے میں بیٹھے ہیں اور انہیں سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اس وقت تک طاقت کا استعمال نہیں کیا جب تک دوسری جانب سے فائرنگ یا مسلح حملہ نہیں کیا گیا۔طلال چودھری نے بتایا کہ مزید گرفتار ہونے والے تین افراد وقار حمید، محمد علی اور عمار سہیل ہیں اور ان تینوں کے روابط جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دو اہم افراد سے ملتے ہیں۔ اس موقع پر تین گرفتار ملزمان کے مبینہ اعترافی ویڈیو بیانات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے گئے۔وقار حمید نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ تین برس سے ایکشن کمیٹی سے وابستہ ہے اور اس کے مختلف پروگراموں اور دھرنوں میں شرکت کرتا رہا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت امان، ادریس، خواجہ میران، ناظم اور عبدالمجید کے ساتھ رابطے میں ہے۔بیان کے مطابق 9 جون 2026 کو ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران سردار امان کی ہدایت پر وقار حمید اپنے ساتھیوں عمار، بابر الطاف، بلال امین اور واصف ملکیشن کے ہمراہ ٹبلاکوٹ دھرنے میں شریک ہوا۔ اسے دھرنے کے ایک رکن کے گھر کی حفاظت پر مامور کیا گیا، جہاں وہ تقریباً 15 روز تک موجود رہا۔ بعد ازاں اسے مختلف مقامات پر نقل و حرکت اور دیگر ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے کہا گیا۔ بیان کے مطابق 23 جولائی کو ڈریگ سے ڈیچھو کی جانب پیش قدمی کے دوران مسلح افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جبکہ انہیں ہدایات سردار امان اور خواجہ میران کی جانب سے دی جا رہی تھیں۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ 24 اگست 2026 کو جب فورسز کوٹلی سے بلوچستان کی جانب روانہ ہوئیں تو امان نے ماجد اور ناظم کو ہدایت کی کہ 40 سے 50 مسلح افراد کشمیر مورچے میں بھیجے جائیں تاکہ فورسز کو روکا جاسکے۔وقار حمید کے مطابق ان مسلح افراد میں کمانڈر رمیز، عبدالماجد، ناظم، اجمل خوشید، طیب خوشید، ساجد، بابا فرید، بلال، ارباب، اظہر سلطان، اسد الفقالو، یاسر، صفیر، جواد، سائم، ندیم، ارسلان، علی، عثمان، عباس اور عقیل شامل تھے۔ اس کے مطابق ان افراد نے مل کر سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عبدالمجید اس وقت بھی اپنے مسلح افراد کے ساتھ کشمیر مورچے میں موجود ہے اور ان کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار، سنائپر رائفلز، دستی بم اور پستول موجود ہیں۔وقار حمید کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو وہ محمد علی کے ہمراہ کشمیر مورچے میں ماجد سے ملنے گیا، جہاں ماجد نے بتایا کہ ضیا نامی شخص، جو اسلحہ لینے گیا تھا، گرفتار ہوچکا ہے اور اسلحے کی شدید کمی ہے۔بیان کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو ماجد نے اسے ایک نامعلوم شخص سے اسلحہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ رات آٹھ بجے آزاد پتن سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئے اور 15 ستمبر کی صبح راولپنڈی پہنچے۔ محمد علی نے عمار کو اپنے ساتھ لیا اور وہ اسلحہ وصول کرنے کے لیے گئے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.