کوئٹہ(خ ن) بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیو وائرس کی موجودگی جانچنے کے لیے لیے گئے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انسداد پولیو کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور ان کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی پیش رفت مسلسل کوششوں، مؤثر حکمت عملی اور مربوط اقدامات کا نتیجہ ہے۔ پولیو کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے انسداد پولیو مہم کے دوران فرائض کی انجام دہی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکاروں اور پولیو ورکرز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی خدمت کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلسل محنت اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے بلوچستان کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا گزشتہ تین سال کی مسلسل جدوجہد، شب و روز محنت اور انسداد پولیو کے لیے کیے گئے مؤثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، پالیسیوں کے تسلسل اور انسداد پولیو پروگرام کی مسلسل نگرانی نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی مسلسل نگرانی اور سرپرستی بھی ان کوششوں کو مؤثر بنانے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے بخت محمد کاکڑ نے محکمہ صحت کے حکام، پولیو ورکرز اور والدین کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم میں شامل کارکنان نے دہشت گردی کے خطرات، دشوار گزار علاقوں، شدید گرمی، سردی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پولیو ورکرز کو زخمی کرنے، اغوا کرنے اور دھمکیاں دینے جیسے واقعات کے باوجود ان کا عزم اور ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے انسداد پولیو مہم کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حکومت بلوچستان پولیو ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں کے منفی نتائج حوصلہ افزا پیش رفت ہیں، تاہم پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر ویکسینیشن، پولیو ورکرز کی معاونت اور والدین کے تعاون کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ بلوچستان کو پولیو سے پاک بنانے تک انسداد پولیو کی کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].