کوئٹہ(خ ن)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ماہی گیری (فشریز) کا اجلاس کمیٹی روم، بلوچستان صوبائی اسمبلی میں چیئرمین کمیٹی مولانا ہدایت الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین ظہور احمد بلیدی، عبدالمجید بادینی اور سید ظفر علی آغا نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری فشریز طارق قمر بلوچ، اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن اور ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بل کا بنیادی مقصد صوبے میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبوں سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مثر انتظامی نظام قائم کرنا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، آبی زراعت، فشریز ہاربرز اور ساحلی ترقی سے متعلق مروجہ قوانین، جن میں بلوچستان فشریز آرڈیننس 1961، بلوچستان سی فشریز آرڈیننس 1971، پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی آرڈیننس 1983 اور بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1998 شامل ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے متقاضی ہیں۔ ان قوانین میں موجودہ قانونی و انتظامی پیچیدگیوں اور ادارہ جاتی اختیارات کے تداخل کے باعث ایک مربوط اور موثر قانونی نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بلوچستان کے وسیع ساحلی وسائل اور ماہی گیری کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر ان وسائل کا تحفظ، پائیدار ترقی، موثر نگرانی اور بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں مجوزہ قانون سازی کو صوبے میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبوں کی بہتری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔بل پر طویل غور و خوض اور تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی کے اراکین نے اپنی سفارشات پیش کیں، جنہیں مزید غور و خوض اور منظوری کے لیے ایوان میں زیر بحث لانے کی سفارش کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی ہدایت الرحمن نے اراکین اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔
بریسٹ کینسر کے خلاف آگاہی، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، وزیراعلی بلوچستان
کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر کے خلاف موثر جدوجہد کے لیے آگاہی، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خواتین کی صحت کا تحفظ حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ ہائوس سے بریسٹ کینسر سے آگاہی کے ماہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ بیماری کی بروقت تشخیص سے علاج کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں، اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں اور جسم میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے مستند معالج سے رجوع کریں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق خوف، غلط فہمیوں اور سماجی جھجک کو دور کرنے کے لیے موثر آگاہی مہمات چلانا ضروری ہے تاکہ خواتین بلاخوف اپنی صحت کے مسائل پر بات کر سکیں اور بروقت طبی مشورہ حاصل کریں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین تک بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی، اسکریننگ اور علاج کی سہولیات کی رسائی بہتر بنائی جائے تاکہ تمام خواتین کو بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے مواقع میسر آ سکیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کو خوف یا تنہائی کا شکار ہونے کے بجائے حوصلہ افزائی اور بھرپور سماجی تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں خاندانوں، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اپنا مثر کردار ادا کرنا ہوگا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آگاہی، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی خواتین کے لیے امید اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں، جبکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے بریسٹ کینسر کے خلاف موثر جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان کی زیر صدارت جیلوں میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس
کوئٹہ(خ ن)وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کو طبی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ جیلوں کے نظام میں بہتری کے لیے مزید مثر اقدامات کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو جیلوں میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی زیر صدارت منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم حمزہ شفقات، آئی جی جیل خانہ جات عاصم اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان کی جیلوں میں اصلاحات، انتظامی امور اور قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر جیلوں کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جیلوں کے انتظامی نظام میں بہتری لانے اور قیدیوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مزید مثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جیلوں میں قیدیوں کو طبی سہولیات سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔
مولانا ہدایت الرحمان کی زیر صدارت بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 پر قائمہ کمیٹی کا اجلاس
کوئٹہ(خ ن)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ماہی گیری (فشریز) کا اجلاس کمیٹی روم، بلوچستان صوبائی اسمبلی میں چیئرمین کمیٹی مولانا ہدایت الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین ظہور احمد بلیدی، عبدالمجید بادینی اور سید ظفر علی آغا نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری فشریز طارق قمر بلوچ، اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن اور ڈپٹی سیکرٹری قانون احسان برکت بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ بل کا بنیادی مقصد صوبے میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبوں سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مثر انتظامی نظام قائم کرنا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، آبی زراعت، فشریز ہاربرز اور ساحلی ترقی سے متعلق مروجہ قوانین، جن میں بلوچستان فشریز آرڈیننس 1961، بلوچستان سی فشریز آرڈیننس 1971، پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی آرڈیننس 1983 اور بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1998 شامل ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے متقاضی ہیں۔ ان قوانین میں موجودہ قانونی و انتظامی پیچیدگیوں اور ادارہ جاتی اختیارات کے تداخل کے باعث ایک مربوط اور موثر قانونی نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بلوچستان کے وسیع ساحلی وسائل اور ماہی گیری کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر ان وسائل کا تحفظ، پائیدار ترقی، موثر نگرانی اور بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں مجوزہ قانون سازی کو صوبے میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبوں کی بہتری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔بل پر طویل غور و خوض اور تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی کے اراکین نے اپنی سفارشات پیش کیں، جنہیں مزید غور و خوض اور منظوری کے لیے ایوان میں زیر بحث لانے کی سفارش کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی ہدایت الرحمن نے اراکین اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].