موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست، سکیورٹی اداروں اور شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیرہے،وزیر داخلہ بلوچستان

موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست، سکیورٹی اداروں اور شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیرہے،وزیر داخلہ بلوچستان
کوئٹہ(اے پی پی):وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست، سکیورٹی اداروں اور شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔ حکومت ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات مجبوری کے تحت اٹھاتی ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون سے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جا رہا ہے تو بلوچستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم مختلف معاملات میں فنڈز، قانون سازی اور متعلقہ حکام کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ حکومت بلوچستان ان تمام معاملات میں سکیورٹی فورسز کو مکمل تعاون فراہم کررہی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے، اس لیے اپنے اداروں، سکیورٹی فورسز اور شہدا کے بارے میں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن سے قومی یکجہتی متاثر ہو۔ اگر ریاست قائم ہے تو سیاست بھی ممکن ہے، لہٰذا ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور دہشت گرد نرم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے متعدد واقعات کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ کے بھائی اور کمشنر رخشاں ڈویژن کی بازیابی کو جلد یقینی بنایا جائے گا۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمارے اپنے ہیں اور اگر حالات کے پیش نظر کسی علاقے سے لوگوں کی عارضی منتقلی کی ضرورت پیش آئی تو اس سلسلے میں مکمل اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات خوشی سے نہیں بلکہ دہشت گردی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث ناگزیر حالات میں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ صوبے میں جلد امن قائم ہوگا۔سکیورٹی اقدامات اور کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے قیام کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 اور صوبائی ایکشن پلان کے 18 نکات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے 18 قوانین منظور کیے ہیں جبکہ 17 نئے سکیورٹی ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں۔ صوبے میں خصوصی عدالتوں کے قیام سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ 90 افراد کو حراست میں لیا گیا اور 41 مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔محمد حمزہ شفقات کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کے لیے موجودہ حکومت تقریباً 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ اکتوبر تک 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جبکہ مختلف کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 250 دہشت گرد ہلاک اور 250 گرفتار کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ داخلہ کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے اور متعلقہ معاملات کی باقاعدہ رپورٹس مرتب کی جاتی ہیں۔ نادرا کے تعاون سے ڈومیسائل کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے جبکہ اسلحے کے ریکارڈ کو بھی ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ صوبے میں سڑکوں پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نئی ڈویژن قائم کرنے پر کام جاری ہے۔ کوئٹہ سے کراچی اور تفتان تک سکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کے لیے آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں پولیس کے 101 اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے قریب 200 اہلکار بھی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 551 عام شہری دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والے اسلحے میں امریکی ساختہ اور دیگر اقسام کا اسلحہ بھی شامل ہے۔محمد حمزہ شفقات نے بتایا کہ شاروک کے علاقے میں تقریباً پانچ ہزار خاندان متاثر ہو رہے ہیں اور کمشنر خضدار کو اس صورت حال سے متعلق اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے متاثرہ علاقوں کے لیے پیکج کی منظوری دے رکھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چمن سے 10 ہزار ڈیٹونیٹرز برآمد کیے گئے ہیں جو کوئٹہ اور گرد و نواح میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہونا تھا بلوچستان میں یوریا کے استعمال سے متعلق معاملات پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے ایک موثر طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ یوریا کھاد کی دہشتگردی میں استعمال کے شواہد ملے تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورت حال کا موازنہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات ہو رہی ہے تو بلوچستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قانون سازی کے معاملات پر صوبائی کابینہ اور اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں سامنے آنے والے تحفظات کا جائزہ لیا جائے گا۔ شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے پریس کانفرنس میں سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق اعداد و شمار میڈیا کے سامنے رکھے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کے حوالے سے پیمرا کی گائیڈ لائنز موجود ہیں، جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق چلنا تمام اداروں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.