کراچی(جیو نیوز)میر رضا علی کیس کی جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں، ناقص نگرانی اور پیشہ ورانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔کمیشن نے تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ شواہد چھپانےکے پہلو کو بھی نظرانداز نہ کرنےکی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے عوامی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینےکے ابتدائی پولیس مؤقف پر بھی جوڈیشل کمیشن نے سوالات اٹھادیے۔
رپورٹ کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس کے خودکشی کے مؤقف اور میڈیکو لیگل شواہد کے درمیان تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق ڈاکٹراسامہ شیخ کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پہلی رپورٹ کے مشاہدات سے اختلاف کیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت کے معاملے میں گولی کے زخم اور دیگر طبی شواہد اہم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مکمل تحقیقات سے پہلے پولیس کے نتائج میڈیا پر جاری کرنا پیشہ ورانہ معیار کے خلاف تھا۔
میر رضا کیس میں ڈاکٹر اسامہ کے کردار اور پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر انکوائری رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 9 اگست کو ڈاکٹر اسامہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی درخواست پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنےکے تاثر سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ پر دباؤ ڈالنے کے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ سندھ کو اہم کیس پر سینئر پولیس افسران سے بریفنگ لینےکا اختیار حاصل ہے، تاہم شفافیت کے پیش نظر پولیس سرجن کو بھی بلایا جانا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں میر رضا کیس میں اہم سی سی ٹی وی ویڈیوز قانونی طریقے سے محفوظ نہ کرنےکا بھی انکشاف ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے متعدد مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اصل ڈی وی آر کے بجائے موبائل فون سے ریکارڈ کی۔ میر رضا کیس میں ڈیجیٹل شواہد کی تحویل اور محفوظ رکھنے کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔اہم ڈیجیٹل شواہد کی وصولی اور منتقلی کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔
انکوائری رپورٹ میں میر رضا کیس کی ازسرنو تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانےکی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبرکرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔کیس میں قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق شواہد متاثر ہونےکے باعث میر رضا کیس کی سخت اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس کی رپورٹ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].