اسپیکر بلوچستان کو ایڈیشنل آئی جی پولیس کی اسماجتک اور لائبہ ستار کے کیسز سے متعلق بریفنگ

اسپیکر بلوچستان کو ایڈیشنل آئی جی پولیس کی اسماجتک اور لائبہ ستار کے کیسز سے متعلق بریفنگ
کوئٹہ(خ ن) اسپیکر بلوچستان کیپٹن (ر)عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت اسپیکر چیمبر میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک، ارکان اسمبلی میر جہانزیب مینگل، نوابزادہ ظفر زہری، سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس آصف خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسما جتک اور ضلع قلات سے تعلق رکھنے والی لائبہ ستار کے مقدمات، ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خدشات اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں دی گئی اپنی رولنگ کے تحت ڈی آئی جی خضدار رینج کو اسپیکر چیمبر میں طلب کیا تھا تاکہ مذکورہ واقعات میں پیش رفت، پولیس تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔ منگل کو منعقدہ اجلاس میں اسپیکر نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی کے باوجود ڈی آئی جی کے بجائے اے آئی جی کی آمد کو استحقاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا۔اسپیکر نے اجلاس میں کہا کہ ایسے واقعات بار بار اسمبلی میں زیربحث آنا تشویش ناک ہے۔ پولیس عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے محافظ ہیں، اگر آپ ہی ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہم اس حوالے سے کیا کہہ سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران اے آئی جی آصف نے بتایا کہ اسما جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس پر اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاتون کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو درپیش خدشات اور تحفظ کے معاملات کو کس طرح یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی حفاظت محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔پولیس حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور معاملے کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مثر انداز میں مکمل کی جائیں، مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پولیس حکام پر واضح کیا کہ ایسے حساس مقدمات میں تاخیر اور عدم پیش رفت سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، لہذا ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.