اسلام آباد(بی بی سی)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے انڈیا کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا ایک ایسے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر دونوں ممالک عمل کے پابند ہیں اور پاکستان کے آبی حقوق کی خلاف ورزی کو ’جنگی اقدام‘ سمجھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات ہوئی اور دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ مؤقف مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ پانی پاکستان کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پانی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ ہے، اسے دھمکیوں یا تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے بقول پانی انسانیت کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جو دریاؤں کے نچلے حصوں میں واقع ہیں۔
یاد رہے کہ انڈیا نے گذشتہ سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].