اسلام آباد(خ ن)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش گورننس کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے اور انتظامی امور کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے صوبے میں مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے پر مشتمل صوبے کو صرف کوئٹہ سے بیٹھ کر مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، اس لیے ملکی سطح پر انتظامی تنظیمِ نو، نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ گورننس ماڈلز کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قومی مکالمے کا آغاز خوش آئند ہے، تاہم ضروری ہے کہ اس بحث کو سیمینارز اور ہوٹلوں تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے اور اس حوالے سے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنوبر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان کی انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان میں گورننس کے موجودہ ماڈلز کی تشکیلِ نو یا انہیں برقرار رکھنے کے حوالے سے بحث جاری ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس قومی مکالمے میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ویسٹ منسٹر طرزِ جمہوریت کس حد تک عوام کو مطلوبہ نتائج فراہم کر پا رہی ہے اور آیا انتظامی تقسیم اور رقبے کی موجودہ ترتیب بھی عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں انتظامی اکائیوں کی موجودہ تقسیم ہی ایسی مشکلات کا سبب تو نہیں بن رہی جن کی وجہ سے ایک نظام کو ناکام تصور کیا جا رہا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان جغرافیائی وسعت کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے آنے والے ان کے دوست اور ساتھی جب واہگہ بارڈر سے سفر شروع کرکے راجن پور کے قریب شاہوالی پہنچتے ہیں تو پنجاب کا علاقہ ختم ہو جاتا ہے، اور اس سفر میں تقریباً چھ سے سات گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس بلوچستان کے کسی ایک ضلع کے اندر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنے میں بھی دس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ یہ فرق صوبے کے جغرافیائی پھیلاؤ اور انتظامی ضروریات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت کو اسی زمینی حقیقت کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس نوعیت کی اصلاحات کے لیے سب سے پہلے سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ قومی مباحثے اور سیمینارز اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن ان کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب یہ بحث پارلیمنٹ تک پہنچے گی اور سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر قابلِ عمل حل پر اتفاق کریں گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کو نہ صرف مزید صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے بلکہ موجودہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کو بھی عوامی ضروریات کے مطابق مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورِ وزارتِ داخلہ کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خضدار کے دور دراز علاقے سارونہ کے قریب ایک مزار پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں متعدد بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے بعد لاہور یا اسلام آباد میں موجود ایک اینکر پرسن نے ان سے رابطہ کرکے دریافت کیا کہ ڈپٹی کمشنر ابھی تک جائے وقوعہ پر کیوں نہیں پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً نو گھنٹے درکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک انتظامی افسر کو اپنے ہی ضلع کے اندر کسی ہنگامی صورتحال پر ردعمل دینے کے لیے نو گھنٹے سفر کرنا پڑے تو اس سے انتظامی ڈھانچے اور جغرافیائی فاصلے کے درمیان موجود بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وسائل کی تقسیم میں آبادی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، تاہم انتظامی ضروریات، جغرافیائی وسعت اور عوام تک خدمات کی رسائی جیسے عوامل کو بھی مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جب انہوں نے صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو بلوچستان میں ڈویژنز کی تعداد آٹھ تھی، جسے بڑھا کر بارہ کر دیا گیا ہے، جبکہ اضلاع کی تعداد تقریباً 36 سے بڑھا کر 41 کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بڑے اضلاع کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے انتظامی امور کو آسان بنانا اور عوام کو سرکاری خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے انتظامی اختیارات کے تحت ممکنہ اقدامات کیے ہیں، تاہم آئینی ترامیم اور دیگر بڑے فیصلوں کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے درکار ہوگا۔بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وسائل کی کمی اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن بلوچستان میں اس وقت بلدیاتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق بلوچستان ان چند صوبوں میں شامل ہے جہاں بلدیاتی نظام فعال ہے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے اپنے بیان میں حتمی دعویٰ کرنے کے بجائے وضاحت کی کہ انہیں دیگر صوبوں کی موجودہ صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودہ مدت 8 فروری کو مکمل ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت پہلے ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر درخواست کر چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے فوری طور پر تاریخ دی جائے تاکہ جمہوری عمل کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قومی سیاست میں بلوچستان کی نمائندگی اور مرکزی سیاسی جماعتوں کی توجہ کے حوالے سے کہا کہ وہ خود ایک مرکزی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی جماعت کی جانب سے ملنے والی عزت اور اعتماد کے شکر گزار ہیں، لیکن ملک کی سیاسی ترجیحات اور نمائندگی کے تناسب کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے منتخب ہونے والے اراکینِ قومی اسمبلی کی تعداد گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد ڈویژنز میں سے ہر ایک کی نمائندگی سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ مرکزی سیاسی جماعتیں بلوچستان کے مسائل، ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاست دانوں کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی ہے، لیکن پاکستان میں سیاسی عمل بڑی حد تک نالیوں، سڑکوں اور مقامی ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاست کا محور بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے بن جائیں تو قانون سازی، پالیسی سازی اور بڑے قومی مسائل پر توجہ متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ مقامی سطح کے مسائل منتخب بلدیاتی نمائندے حل کریں اور صوبائی و قومی سطح کے منتخب نمائندے قانون سازی اور وسیع تر پالیسی معاملات پر توجہ دے سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کو مرکزی سیاسی جماعتوں، قومی ذرائع ابلاغ، اہلِ دانش، ملک کے تمام متعلقہ اداروں اور بالخصوص بیوروکریسی کی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے مسائل کے حل کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ انتظامی ڈھانچے کی مؤثر تنظیمِ نو، مزید انتظامی اکائیوں کا قیام، مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام اور آبادی کے ساتھ ساتھ صوبے کی جغرافیائی وسعت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی انتظامی اور ترقیاتی ضروریات کو قومی پالیسی سازی میں مناسب مقام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].