واشنگٹن(بی بی سی)امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہونگ کاؤ نے کہا ہے کہ امریکہ تائیوان کو 14 ارب ڈالر (تقریباً چار کھرب پاکستانی روپے) کے ہتھیاروں کی فروخت کو عارضی طور پر روک رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے اپنے پاس کافی ہتھیار موجود رکھ سکے۔
انھوں نے سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد اس معاہدے کے حوالے سے غیر واضح موقف اختیار کیا تھا۔
تائیوان کے صدارتی دفتر کے ترجمان نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انھیں امریکہ کی جانب سے اس اسلحہ معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت بیجنگ کے لیے ہمیشہ ناراضی کا سبب بنتی رہی ہے کیونکہ چین اس خود مختار جزیرے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کے امکان کو رد نہیں کرتا۔
ہونگ کاؤ نے سماعت کے دوران کہا کہ ’اس وقت ہم وقفہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس ’ایپک فیوری‘ کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے اور ہمارے پاس کافی مقدار میں موجود ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ موجود ہو، اور پھر جب انتظامیہ مناسب سمجھے گی تو غیر ملکی فوجی فروخت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ تائیوانی حکام سے اس تعطل کے بارے میں کیا بات ہوئی ہے، تو کاؤ نے کہا کہ انھوں نے ’تائیوانی حکام سے بات نہیں کی‘۔
یہ 14 ارب ڈالر کا پیکیج کئی مہینوں سے ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔ اس میں فضائی دفاعی میزائل جیسے لاک ہیڈ مارٹن کے PAC-3 اور دیگر زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام شامل ہیں۔
ٹرمپ نے ابھی تک اس پیکیج کی حتمی منظوری نہیں دی۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ ’چین کے ساتھ مذاکرات کا ایک بہت اچھا ہتھیار‘ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’جلد ہی‘ اس معاہدے پر فیصلہ کریں گے۔
یہ بیانات بیجنگ میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد سامنے آئے جہاں شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں سب سے اہم ہے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر شی سے ’تفصیل سے بات کی‘ حالانکہ 1982 کے امریکی وعدے کے مطابق واشنگٹن نے بیجنگ سے اس معاملے پر مشاورت نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر براہ راست تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے سے بات کریں گے، جو سفارتی روایات سے ہٹ کر ہوگا اور چین کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔
امریکی اور تائیوانی رہنماؤں کے درمیان کئی دہائیوں سے براہ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے تائیوان کی سابق صدر سائی اِنگ وین سے گفتگو کی تھی۔
گذشتہ دسمبر میں امریکہ کی جانب سے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی منظوری پر چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ’آبنائے تائیوان میں خطرناک اور پرتشدد صورتحال پیدا ہو سکتی ہے‘۔
تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ فروخت ’خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ‘ ہے۔
ان کی قیادت میں تائیوان نے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].