کوئٹہ: میڈیکل سپرنٹنڈنٹ عبدالہادی کاکڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سول ہسپتال کوئٹہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس کی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ویڈیو بھارت کی ریاست اتر پردیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک معروف اینکر پرسن نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ ویڈیو پوسٹ کی، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے سائبر کرائم حکام سے رجوع کیا ہے اور ویڈیو وائرل کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عبدالہادی کاکڑ نے کہا کہ حکومت بلوچستان شعبہ صحت کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور سول ہسپتال میں اگلے چھ ماہ کی ادویات کا مکمل اسٹاک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹی ویڈیو کے ذریعے سول ہسپتال کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی جو افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال میں پورے بلوچستان سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور ایسی ویڈیوز عوام کو مایوس کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فیکٹ چیک کے بغیر کسی بھی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایم ایس سول ہسپتال نے بتایا کہ ہسپتال تھیلیسیمیا کے چار ہزار سے زائد مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے جبکہ ایمرجنسی میں پورے بلوچستان کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں کو بھی سول ہسپتال طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ لیبارٹری سسٹم میں کچھ چیلنجز درپیش ہیں تاہم ایک ماہ کے اندر ان مسائل کو حل کرکے بہتری لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سول ہسپتال روزانہ پانچ ہزار مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے جبکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران گیارہ لاکھ سے زائد او پی ڈیز رجسٹر کی گئیں۔
عبدالہادی کاکڑ نے کہا کہ سول ہسپتال میں اس وقت بھی پانچ سو مریض زیر علاج ہیں اور ہسپتال انتظامیہ ہر کمی کو دور کرکے اصلاح کے عمل پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی ویڈیو کو وائرل کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دنوں صحت کے گیارہ منصوبوں کا افتتاح کیا ہے جس سے صوبے میں طبی سہولیات مزید بہتر ہوں گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].