آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع
تہران(بی بی سی)ہلاکت کو تین ماہ گزر جانے کے بعد علی خامنہ ای کی تدفین کا اعلان باضابطہ طور پر سامنے آیا ہے۔تہران میونسپلٹی میں ثقافتی و سماجی امور کے نائب کا کہنا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی تدفین ’ممکنہ طور پر ذی الحج کے اختتام اور محرم کے آغاز میں‘ یعنی تقریباً دو ہفتے بعد کی جائے گی۔محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ اس تقریب کی ذمہ داری پاسداران انقلاب کے پاس ہے اور اس میں تین روزہ ’عوامی الوداعی‘ پروگرام رکھا گیا ہے۔توکلی زادہ نے کہا کہ الوداعی تقریب تہران میں کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے گی جس کے بعد نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور تدفین ہو گی۔انھوں نے کہا: ’دار الحکومت میں ڈیڑھ تا دو کروڑ سے زیادہ افراد کی شرکت کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘ان کے مطابق تہران کے بعد قم اور مشہد میں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔توکلی زادہ نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین ’وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر ہو گی۔تہران کے نائب میئر کے مطابق توقع ہے کہ پاکستان، افغانستان، انڈیا، بنگلہ دیش، کشمیر اور اسلامی دنیا کے دیگر ممالک سے ’عزادار‘ مشہد کا رخ کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ علی خامنہ ای کی میت قم، کرج اور سمنان سمیت جن شہروں سے مشہد تک لے جائی جائے گی، وہ شہر کم از کم ایک دن کے لیے تقریبات کی میزبانی کریں گے۔ توکلی زادہ کے مطابق عراقی قبائل، عوام اور پارلیمنٹ کی جانب سے بھی تدفین کی میزبانی کی درخواست کی گئی ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے شروع کیے تھے تو علی خامنہ ای بھی ان کا نشانہ بنے تھے۔ ان کے خاندان کے بعض افراد بھی ان کے ساتھ مارے گئے تھے، جن کے لیے گذشتہ ہفتے تہران میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ جنگ کے دوران کہا گیا تھا کہ تدفین کو مناسب وقت تک مؤخر کیا جائے گا تاہم کوئی تاریخ نہیں دی گئی تھی۔ جنگ بندی کے بعد بھی تقریب کے انعقاد کی تیاری کا ذکر کیا گیا لیکن تاریخ طے نہیں کی گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں افواہوں کے بعد ذمہ دار اداروں نے وضاحت کی کہ تدفین چار جون کو عید غدیر کے موقع پر نہیں ہو گی۔ اس سے قبل تہران صوبے کی اسلامی تبلیغ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے کہا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین ’ایک عالمی تقریب ہوگی جو تاریخِ اسلام اور ایران میں درج ہو گی۔ اس وقت عراق سمیت دیگر ممالک سے شرکت کے لیے رجسٹریشن اور آمادگی کا اعلان دیکھنے میں آ رہا ہے۔‘ امریکی اور اسرائیلی حملے میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں کے علاوہ اس کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں بھی توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے تھے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.