کوئٹہ (دی باغوان)ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے ایس ایس پی اسپیشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ (SCIW) دوست محمد بگٹی اور ایس ایس پی آپریشنز محمد آصف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اسپیشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے محمد ہاشم نورزئی قتل کیس کامیابی سے ٹریس کر لیا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی ملزم سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی عمران شوکت نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مرکزی ملزم حکمت اللہ نورزئی کو بھی گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کا بھائی سعد اللہ نورزئی تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ محمد ہاشم نورزئی کے قتل کی منصوبہ بندی 16 کروڑ روپے کے کاروباری تنازعے کے باعث کی گئی تھی۔ مرکزی ملزم کی نشاندہی پر کلاشنکوف، ایل ایم جی سمیت دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا، جبکہ سریاب روڈ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مزید دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے چار رائفلیں اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ڈی آئی جی نے کہا کہ واردات میں استعمال ہونے والی ریوو گاڑی کی برآمدگی کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں اور جلد اسے بھی تحویل میں لے لیا جائے گا۔عمران شوکت نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران اسپیشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے پانچ بلائنڈ مرڈر کیسز کامیابی سے ٹریس کیے ہیں۔ ان کے مطابق گوالمنڈی قتل کیس میں ملزم سید نعیم شاہ کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کیا گیا، جبکہ زرغون آباد قتل کیس میں ملزم شاہ محمد کی گرفتاری کے ساتھ آلہ قتل بھی برآمد ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شالکوٹ قتل کیس میں مرکزی کردار خاتون ملزمہ گرفتار کر لی گئی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اسی طرح شالکوٹ ڈبل مرڈر کیس میں ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ جدید سائنسی تفتیش، شواہد اور پیشہ ورانہ تحقیقات کی بدولت سنگین نوعیت کے مقدمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].