جیسا کہ میں اپنی سابقہ پوسٹس میں لکھ چکا ہوں، پختونخوا اور بلوچستان کے پختون علاقے اس وقت ایک انتہائی سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ ایسے نازک وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپس کے چھوٹے موٹے اختلافات بھلا کر متحد ہوں۔ افسوس کہ پی کے میپ کی "گالی بریگیڈ" ان مشکل حالات میں بھی پرامن بقائے باہمی اور مہذب اختلافِ رائے پر یقین نہیں رکھتی۔
اپنی روایت کے مطابق اس بریگیڈ نے مجھ پر محض اس بات پر الزامات کا طوفان کھڑا کر دیا کہ میں نے ٹی ٹی پی کے وجود کو تسلیم کیا۔ میرا مؤقف واضح ہے: ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں دراصل پاکستانی ریاست کی اس دیرینہ پالیسی کا نتیجہ ہیں جس کے تحت نام نہاد جہادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی گئی اور عسکریت پسند گروہوں کی پرورش کی گئی۔ ماضی کی طرح ان میں سے بعض گروہ فرینکن سٹائن مانسٹر کی مانند خود ریاست کے خلاف ہو گئے۔ اس کے باوجود ریاست نے مختلف جہادی گروہوں کے حوالے سے دوغلی پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے ،کچھ کی سرپرستی پراکسی کے طور پر کی جاتی ہے اور کچھ کے خلاف جنگ لڑی جاتی ہے۔ یہ میری رائے ہے، اور ہر کسی کو اس سے اتفاق یا اختلاف کا حق حاصل ہے۔ مگر گالی بریگیڈ کو مہذب اختلاف کا سلیقہ ہی نہیں آتا اور الزامات اور “غداری” کے فتوے لگا کر اپنی تربیت دکھانا شروع کرتے ہیں۔
چونکہ پی کے میپ نے کبھی سرکاری طور پر اس گالی بریگیڈ سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا، اس لیے جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
تو آئیے، اس "گالی بریگیڈ" کو جواب دیتے ہیں۔ گزشتہ پچیس برسوں سے تمام پختون قوم پرست یہ مؤقف اپناتے آئے ہیں کہ پاکستانی ریاست کی جانب سے "اچھے" اور "برے" طالبان کی تقسیم ایک فریب ہے۔ ہم سب کہتے رہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اور آج بھی میں اور بہت سے لوگ اسی مؤقف پر قائم ہیں۔ لیکن آپ نے اپنا موقف بدل لیا اور طالبان کے حمایتی بن گئے، بلکہ خود کو ان کا "وزیرِ خارجہ" تک کہلوایا۔ اگر افغان طالبان پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے تصدیق شدہ ایجنٹ رہے ہیں، تو کیا آپ کی طالبان کی حمایت آپ کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ نہیں بناتی؟ گالی بریگیڈ کی اپنی منطق کے مطابق تو پھر پی کے میپ طالبان کے سرپرستوں، یعنی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ، کے کہنے پر افغان طالبان کا دفاع کر رہی ہے۔
دوسری بات، اگر آپ طالبان کے دفاع پر بضد ہیں، تو پھر منطقی طور پر آپ کو پختونخوا وطن میں طالبان کے نام پر ہونے والے مظالم اور تشدد کی بھی توجیہ پیش کرنی پڑے گی۔ سوال یہ ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں گولی چلانے والے اور اس گولی سے شہید ہونے والے، دونوں کے ساتھ ہمدردی کیسے رکھ سکتے ہیں؟ یہ تضاد ہے جسے سلجھانا خود آپ کی ذمہ داری ہے۔
تیسری بات، اگر ٹی ٹی پی کا وجود ہی نہیں، تو محمود خان اچکزئی صاحب نے اپنے کارکنوں کو یہ نصیحت کیوں کی کہ ٹی ٹی پی سے الجھنے سے گریز کریں، اور یہ کہ "یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں"؟ اگر ٹی ٹی پی سرے سے موجود ہی نہیں، تو پھر انہیں "اپنے لوگ" قرار دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ سوال میں پورے احترام کے ساتھ اٹھا رہا ہوں، کیونکہ اچکزئی صاحب ایک سنجیدہ اور تجربہ کار سیاستدان ہیں، اور ان کے اپنے بیانات ہی گالی بریگیڈ کے مؤقف کی نفی کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آچکزئی صاحب اور پارٹی کے ذمہدار قیادت کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ٹی ٹی پی وجود رکھتی ہے انہوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو ٹی ٹی پی سےالجھنے سے باز رکھا ہوا ہے جو کہ ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو اپنے دلیرانہ موقف کی وجہ سے اپنے سینکڑوں کارکن اور بشیر بلور جیسے ہیرے کھونے پڑے۔ پی کے میپ نے اس سے سبق سیکھا ہے۔ اور یہی پیغام میں نے بھی دیا تھا کہ عام اولس کو لشکر یا نام نہاد “امن فورس“ سے گریز کرنا چاہئے بلکہ ریاست پر دباؤ ڈالنا چاہئے کیونکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ یہ "گالی بریگیڈ" نہ صرف مہذب سیاسی مکالمے کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ خود پی کے میپ کے لیے بھی ایک بوجھ بن چکی ہے۔ جماعتیں اپنے دلائل، اپنی سیاسی بصیرت اور اپنے کارکنوں کے اخلاق سے پہچانی جاتی ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ سے۔ جب ایسے عناصر کسی جماعت سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں تو وہ خود اس جماعت کی ساکھ اور سنجیدہ سیاسی حلقوں میں اعتبار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پی کے میپ کی قیادت کو اس رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ ایسے کارکن دوستوں سے زیادہ جماعت کے لیے دشمن ثابت ہو سکتے ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].