کوئٹہ شہر ۔۔۔۔۔ سہولیات کی ضرورت

کوئٹہ شہر ۔۔۔۔۔ سہولیات کی ضرورت
کوئٹہ شہر گزشتہ کئی برسوں سے ایسے حالات سے گزر رہا ہے جہاں عام شہری کی اولین خواہش صرف ایک پرامن اور محفوظ ماحول میں سانس لینا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں شہری اور فیملیاں روزانہ کی بنیاد پر کوئٹہ کینٹ کا رخ کرتی ہیں کوئٹہ کینٹ نہ صرف اپنے سرسبز ماحول صاف ستھری سڑکوں بہترین پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز ہے بلکہ موجودہ حالات میں بہت سے شہری اس میں خود کو اور اپنے اہل خانہ کو ذہنی طور پر زیادہ محفوظ محسوس کرنے کی جگہ بھی سمجھتے ہیں دنیا کے بیشتر ممالک میں شاید یہ تصور بھی نہ ہو کہ اپنے ہی شہر کے ایک حصے میں داخل ہونے کے لیے خصوصی پاس کی ضرورت پیش آئے لیکن کوئٹہ کے عوام نے ملکی حالات اور سیکیورٹی تقاضوں کو ہمیشہ سمجھا ہے یہی وجہ ہے کہ ہزاروں شہری کینٹ پاس بنواتے ہیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں کوئٹہ کینٹ میں واقع اسپتال کھیل کے میدان اور واکنگ ٹریک نہ صرف کینٹ بلکہ پورے شہر کے لوگوں کے لیے باعثِ کشش ہیں شہر کے بزرگ بچے خواتین اور نوجوان یہاں آکر کچھ سکون کے لمحات گزارتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود بعض انتظامی مسائل عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں سب سے بڑا مسئلہ داخلی راستوں پر تعینات بعض اہلکاروں کے رویے کا ہے یقیناً ہمارے فوجی جوان ملک کی حفاظت کے لیے دن رات فرائض انجام دے رہے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کی معترف ہے لیکن بعض اوقات معمولی نوعیت کی غلطیوں نمبر پلیٹ کے رنگ یا کسی معمولی تکنیکی مسئلے کی بنیاد پر شہری فیملیوں کو واپس لوٹا دینا یا ان کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کرنا عوام میں احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کینٹ پاس کے حصول کے لیے شہری مختلف اخراجات برداشت کرتے ہیں اور یہ سب کچھ اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ انہیں ایک بہتر اور محفوظ ماحول میسر آئے گا ایسے میں اگر انہیں بار بار غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے عوامی سطح پر منفی تاثرات جنم لیتے ہیں ایک اور اہم مسئلہ رات کے اوقات میں تقریباً تمام داخلی راستوں کی بندش ہے رات نو بجے کے بعد صرف زرغون روڈ کا گیٹ کھلا رہنے سے شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر کسی شخص نے لیاقت بازار یا شہر کے کسی دوسرے علاقے سے گیریژن یا کینٹ کے کسی حصے میں جانا ہو تو اسے کئی اضافی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے مہنگائی کے اس دور میں جہاں ایک سفید پوش طبقہ پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے وہاں اضافی پٹرول اور وقت کا خرچ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ ایک ہی داخلی راستہ کھلا ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا بے پناہ دباؤ پیدا ہو جاتا ہے اور دس سے پندرہ منٹ کا سفر ایک گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی عوام کو اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا تھا اس وقت کے کور کمانڈر شہید جنرل سرفراز اور متعلقہ حکام نے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لیا اور چند دنوں کے اندر ایسی سہولیات فراہم کیں جن سے شہریوں کو نمایاں ریلیف ملا یہی طرزِ حکمرانی عوام کے دلوں میں اداروں کے لیے محبت اور اعتماد پیدا کرتی ہے جناب کور کمانڈر بلوچستان اور اسٹیشن کمانڈر سے مودبانہ گزارش ہے کہ کینٹ کی سیکیورٹی اپنی جگہ نہایت اہم ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی روزمرہ مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر داخلی راستوں میں مناسب اضافہ کر دیا جائے چند مزید گیٹس کو رات کے اوقات کے لیے کھلا رکھا جائے اور متعلقہ اہلکاروں کو شہریوں خصوصاً خواتین بزرگوں اور فیملیوں کے ساتھ نرم اور خوش اخلاق رویہ اختیار کرنے کی ہدایات دی جائیں تو اس سے نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ اداروں کے بارے میں مثبت سوچ بھی مزید مضبوط ہوگی ریاست اور عوام کا تعلق صرف قوانین اور چیک پوسٹوں سے نہیں بلکہ اعتماد احترام اور باہمی تعاون سے قائم رہتا ہے کوئٹہ کے عوام نے ہمیشہ ملکی سلامتی کے لیے ہر مشکل برداشت کی ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی روزمرہ مشکلات کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جائے امید ہے کہ متعلقہ حکام اس عوامی مسئلے پر خصوصی توجہ دیں گے تاکہ کوئٹہ کے شہری ایک محفوظ ماحول کے ساتھ ساتھ آسان اور باوقار زندگی بھی گزار سکیں کیونکہ مضبوط سیکیورٹی کے ساتھ عوامی سہولت ہی ایک مضبوط اور پائیدار معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے.

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.