یوکرین(بی بی سی)یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کے فوجی سربراہ اولیکسینڈر سیرسکی کو برطرف کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ مقبول وزیرِ دفاع میخائلو فیڈوروف کی برطرفی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
ابتدائی طور پر یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ فیڈوروف کی معزولی کا تعلق ان کے اور سیرسکی کے درمیان اختلافات سے ہے، اور بعد میں ان کی تصدیق بھی ہو گئی۔
35 سالہ فیڈوروف کو وزارتِ دفاع میں نئی توانائی پیدا کرنے، مسلح افواج میں اصلاحات لانے اور بد عنوانی کے خلاف مہم کی قیادت کرنے پر بھرپور سراہا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب 60 سالہ سیرسکی کو یوکرین میں بہت سے لوگ سوویت طرز کے ایسے کمانڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جو فوج میں بنیادی تبدیلیاں لانے سے گریزاں تھے۔
وزیر دفاع میخائلو فیڈوروف کو برطرف کیے جانے کے خلاف چھ روز تک وسیع پیمانے پر احتجاج جاری رہا اور زیلنسکی پر سیرسکی کو بھی عہدے سے ہٹانے کا دباؤ بڑھتا گیا۔
سیرسکی کی جگہ 43 سالہ میخائلو ڈراپاٹی کو مقرر کیا گیا ہے، جنھیں جنگی تجربے کا حامل اور مقبول جنرل سمجھا جاتا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].