واشنگٹن(بی بی سی)امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک ایسی ’خطرناک نظیر‘ قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ اس نے مسلسل گیارہویں رات بھی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اگر دنیا یہ قبول کر لیتی ہے کہ کوئی ملک کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول قائم کر سکتا ہے، وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول یا فیس وصول کر سکتا ہے اور ادائیگی نہ ہونے پر ان کی نقل و حرکت روک سکتا ہے، تو یہ ایک انتہائی خطرناک مثال ہوگی۔
ان کے بقول ’اگر ایسی نظیر قائم ہو گئی تو یہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسے اختیار کا دعویٰ کر رہا ہے جس کی اسے بین الاقوامی قانون کے تحت اجازت حاصل نہیں۔
’بنیادی مسئلہ بہت سادہ ہے۔ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کا حق جتا رہا ہے، حالانکہ اسے کسی قانونی طریقہ کار کے تحت ایسا اختیار حاصل نہیں۔‘
مارکو روبیو نے زور دیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور اسے خطرے میں نہیں پڑنا چاہیے۔
’آزادانہ جہاز رانی بین الاقوامی نظام کا ایک بنیادی اصول ہے، اور اسے کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔‘
مارکو روبیو کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بحیرہ جنوبی چین میں بھی چین اور آسیان کے بعض رکن ممالک کے درمیان سمندری حدود اور اہم تجارتی گزرگاہوں کے کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].