کوئٹہ(پ ر)بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور محمد شاہوانی، بابو جان رئیسانی، لالہ قدیم، عبدالحق مینگل، محمد یونس پٹھان، روزی خان مندوخیل، ظاہر شاہ یوسفزئی، جعفر خان کاکڑ، سہیل خان اور محمد امین سومالانی نے کولپور کے مقام پر ٹرکوں کو بلاجواز شام پانچ بجے روکنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ پہلے بولان کے علاقے میں جاری تعمیراتی کام کے باعث ٹرکوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر شام پانچ بجے کے بعد روکا جاتا تھا، لیکن اب جبکہ بولان میں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے، اس کے باوجود کولپور کے مقام پر پرانے طریقہ کار کے مطابق ہیوی ٹرکوں کو شام پانچ بجے کے بعد روکنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کی شکایات کے مطابق شام پانچ بجے کے بعد بعض پولیس اہلکار ہیوی ٹرکوں سے دو، دو ہزار روپے وصول کرنے کے بعد ہی انہیں آگے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کی فوری اور شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس غیر ضروری روک ٹوک سے ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان، وقت کے ضیاع اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ عمل سراسر ناانصافی اور ناجائز ہے۔
بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کولپور کے مقام پر ٹرکوں کو بلاجواز روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مبینہ بھتہ خوری کی شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر ایسوسی ایشن اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].