کوئٹہ(دی باغوان)بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی انفورسمنٹ ٹیم نے سیٹلائٹ ٹائون میں 13 کمرشل کار واش اور سروس اسٹیشنز کا سروے کیا، جس کا مقصد پانی کے استعمال، پانی کے ذرائع اور گندے پانی کے اخراج کے طریقہ کار کا جائزہ لینا تھا۔سروے کے دوران انکشاف ہوا کہ بیشتر کار واش و سروس اسٹیشنز روزمرہ کام کے لیے ٹینکرز کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں اسٹیشنز سے گندا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے کھلے نالوں میں خارج کیا جا رہا ہے۔بیپا ٹیم کے مطابق کسی بھی زیرِ سروے سہولت میں پانی کی ری سائیکلنگ یا ٹریٹمنٹ کا فعال نظام موجود نہیں تھا۔ ٹیم نے موقع پر مالکان اور کارکنوں کو پانی کے محتاط استعمال، پانی کے ضیاع میں کمی اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی۔بیپا حکام کے مطابق کوئٹہ پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والے شہروں میں شامل ہے اور کار واش و سروس اسٹیشنز میں پانی کے غیر منظم استعمال سے زیرِ زمین پانی کے گرتے ہوئے ذخائر پر مزید دبا پڑ رہا ہے۔سروے کے دوران آپریٹرز نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات اور بار بار سڑکوں کی بندش کے باعث کار واش و سروس اسٹیشنز پر آنے والے صارفین کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔بیپا نے سفارش کی ہے کہ کار واش اور سروس اسٹیشنز کے لیے پانی کے تحفظ کی پابند پالیسی وضع کی جائے، جس کے تحت پانی کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ واٹر ری سائیکلنگ سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے۔ اس پالیسی کو بیپا، واسا، محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔بیپا انفورسمنٹ ٹیم کی جانب سے سروے کی تفصیلی رپورٹ، سائٹ وائز مشاہدات اور سفارشات مرتب کرکے متعلقہ حکام کو باضابطہ طور پر پیش کی جائیں گی۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].