کوئٹہ(دی باغوان) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ دکھائی نہیں دیتی، حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اپنے ہی علاقوں میں جانے سے محروم ہیں۔ طاقت کے استعمال سے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے، تمام قومی مسائل کا حل آئین پر عملدرآمد اور پارلیمنٹ کی بالادستی میں مضمر ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک چلانے والے تمام حالات سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور وہاں کے عوام پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ پارلیمنٹ کی اہمیت بھی کمزور ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جانا چاہیے اور عوام پر کسی بھی قسم کی حکومت زبردستی مسلط نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ خود نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو پھر انہیں کابینہ میں رہنے کے بجائے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا کے ادوار میں آئین کی اصل روح کو نقصان پہنچایا گیا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے بتایا کہ ان کی جماعت نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات کیے تھے، تاہم 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کیا لانے جا رہی ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی توقعات آج بھی جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ ہیں۔ نوجوانوں کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے اپنے جذبات ہوتے ہیں جبکہ "نئے چہرے" فلموں کی اصطلاح ہے، سیاست کی نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ ان کی ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات ہوئی تھی، تاہم انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان بنیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے سیاسی معاملات پر عوام کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے اور ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی شناخت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہیں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلانا چاہیے کیونکہ وہ صرف ایک علاقے کے نہیں بلکہ قومی سطح کے رہنما ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نئے صوبے بنانا ایک انتظامی معاملہ ضرور ہے، لیکن اس مقصد کے لیے عوام کی رائے لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے "کیک کاٹنے" کی طرح نہیں بنائے جاتے بلکہ اس بارے میں متعلقہ عوام سے پوچھا جانا چاہیے کہ آیا وہ نئے صوبے چاہتے ہیں یا نہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].