افغانستان میں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے، پاکستان سے سمگلنگ کے دعویٰ بے بنیاد ہیں: اسلام آباد

افغانستان میں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے، پاکستان سے سمگلنگ کے دعویٰ بے بنیاد ہیں: اسلام آباد
اسلام آباد(بی بی سی)پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایک بیان میں افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان سے افغانستان اسلحہ اسمگل کرکے ’تخریبی سرگرمیوں‘ کے لیے استعمال کیے جانے کا الزام بے بنیاد، غیر سنجیدہ اور حقائق کے منافی ہے۔‘ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان پہلے ہی بڑی مقدار میں جدید اسلحے اور فوجی سازوسامان سے بھرا ہوا ہے، جو امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑا گیا تھا۔‘ بیان کے مطابق ’افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور اتحادی افواج کے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی مالیت کا تخمینہ سات اعشاریہ دو ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگوں کے دوران جمع ہونے والے سوویت دور کے ہتھیاروں کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں۔‘ پاکستانی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’ایسے ہتھیاروں کے ساتھ پاکستان کا تعلق جوڑنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ دیگر سنگین مسائل پر سے ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔‘ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’شدت پسند گروہوں کو اب بھی افغان سرزمین پر پناہ، سہولت اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے، جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیاں کرتے ہیں۔‘ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ ’افغان طالبان حکام کو ’ناقابلِ یقین الزامات‘ اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے مسئلے سے نمٹنا چاہیے۔ پاکستانی وزارت کے مطابق ’افغان طالبان حکام نے بارہا یہ یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اس لیے انہیں اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔‘

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.