کوئٹہ(دی باغوان)سابق وزیر اعلی بلوچستان و چیف آف سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ سرکار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مستونگ میں قبائل کے پھلدار باغوں کی تباہی محض درختوں کا نقصان نہیں، بلکہ لوگوں کے احساسِ محرومی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہے۔ طاقت کے ایسے اقدامات قبائلی معاشرے کی سوچ کو مزید سخت اور مزاحم بنا دیتے ہیں۔
حکمران بلوچوں کو ’’فتنۂ ہندوستان‘‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ جن کلمہ گو مسلمانوں سے بلوچوں نے خیر کی توقع کھو دی ہو، کسی غیر مذہب سے اچھائی کی امید رکھنا تو مزید دُور کی بات ہے۔
آج ریاست کا اپنا جبر، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ریاستی دہشتگردی اس بیانیے کی حقیقت عیاں کر رہی ہے کہ فتنہ اور فساد کسی قوم کی مزاحمت میں نہیں ، بلکہ فتنہ اُس ریاستی جبر ،ظلم اور دہشتگردی میں جنم لیتی ہے جو ریاست خود اپنے شہریوں پر مسلط کرتی ہے!
درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور باغ اجاڑے جا سکتے ہیں، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور نفرت کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ریاست واقعی امن چاہتی ہے تو اسے مزاحمت کو ’’فتنہ‘‘ کہنے کے بجائے اُن اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو مزاحمت پر مجبور کرتے ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].