کوئٹہ(دی باغوان)بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سابق رکن اسمبلی ثناء اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ آج عالمی یومِ خواندگی ہے، مگر پاکستان میں تقریباً 28٪ بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ UNICEF بلوچستان میں یہ شرح 75٪ ہے اور سوال صرف وسائل کی کمی کا نہیں۔ بلوچستان حکومت نے گزشتہ رمضان میں تقریباً 7 ارب روپے کے راشن ریلیف پر خرچ کیے، جبکہ صوبہ معدنی و قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور بڑے ترقیاتی بجٹ بھی رکھتا ہے۔
جب اربوں روپے وقتی ریلیف اور ایسے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکتے ہیں جن کی شفافیت ہمیشہ سوال بن جاتی ہے، تو ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب اور ہر بچے کے لیے اسکول کیوں نہیں؟ بلوچستان کو خیرات نہیں، تعلیم، شفافیت اور تعلیم کے شعبہ میں مساوات چاہیے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].