خواتین ٹیچرز بچوں کی فطرت اور تعلیمی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں،نجی تعلیمی اداروں کیلئے گرانٹ بحالی کیلئے کوشش کروںگا،گورنر بلوچستان

خواتین ٹیچرز بچوں کی فطرت اور تعلیمی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں،نجی تعلیمی اداروں کیلئے گرانٹ بحالی کیلئے کوشش کروںگا،گورنر بلوچستان
کوئٹہ(خ ن)گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اگرچہ آج چھٹی کا دن تھا لیکن ورلڈ ٹیچرز ڈے اور ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی خاطر میں نے اس پروگرام میں شرکت کو اپنی چھٹی سے زیادہ اہم سمجھا۔ اساتذہ کرام کی عظمت اور کردار کو بیان کرتے وقت الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ خواتین ٹیچرز بچوں کی فطرت اور تعلیمی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں۔ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے اگر معیاری تعلیم کے فروغ کی خاطر چند لاکھ روپے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی فراہم کیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نجی تعلیمی اداروں کیلئے مختص گرانٹ کو دوبارہ بحال کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرونگا۔ گورنر بلوچستان نے منعقدہ تقریب میں ٹیبلو پیش کرنے والی بچیوں کیلئے ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) کے چیرمین محمد اسحاق، ملک رشید کاکڑ اور لیاقت علی ہزارہ سمیت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اساتذہ کرام کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم، علم اور استاد کے مقام کو آج بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ پانچ اکتوبر کو ہر سال عالمی یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد اساتذہ کے عظیم کردار، گرانقدر خدمات اور معاشرتی وقار کو اجاگر کرنا اور دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کیلئے ان کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں استاد کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد کسی بھی قوم کا محسن ہوتا ہے۔ استاد کا احترام کسی جغرافیے، نسل، زبان یا رنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ قدر ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں تہذیبیں بدلتی رہیں، نظام تبدیل ہوتے رہے لیکن استاد کا بنیادی کردار ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا موجودہ حکومت بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور لکھا پڑھا بلوچستان کے خواب کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے مواقع کو وسیع کیا جائے اور بالخصوص صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے ان بچوں تک بھی تعلیم کی روشنی پہنچائی جائے جو غربت، فاصلے یا بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث تعلیمی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ماں کی گود بچے کیلئے اولین تعلیمی درسگاہ ہے انہوں نے خواتین اساتذہ کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ آخر میں گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آپ علم کی شمعیں روشن کر رہے ہیں جبکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان شمعوں کو ہوا سے محفوظ رکھیں۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیچرز میں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے ۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.