صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد۔ (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو پیداواری شعبے میں ٹیکس نگرانی کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں نظام مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔ اجلاس کومزید بتایا گیا کہ ٹیکسٹائلز، پیکیجڈ پانی، پیکیجڈ جوس اور پیکیجڈ دودھ کے شعبے میں نگرانی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے اور اس کے لئے آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبے میں آلات کی خریداری 15 اکتوبر جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کیلئے 30 اکتوبر تک خریداری مکمل کر لی جائے گی۔ اس طرح ان تمام پیداواری شعبوں میں نگرانی کے نظام کو رواں برس 31 دسمبر تک مکمل فعال کر دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں جہاں بہت سی صنعتوں نے نگرانی کے نظام کی تنصیب میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہیں نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، J.K سپننگ ملز، صورتی انٹرپرائز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل سپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کیا۔ وزیراعظم نے ان صنعتوں کے اس اقدام کی تعریف کی۔ وزیراعظم کو ٹیکس وصولی اور ٹیکس کی استعداد کے مابین فرق پر جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں ملک کی ٹیکس استعداد کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال میں حکومتی اقدامات کی بدولت 1.3 ٹریلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا کیا گیا جو کہ ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ اضافی ٹیکس انفورسمنٹ اقدامات کی بدولت اکٹھا ہوا۔ وزیر اعظم نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی شب و روز محنت کی بعد جامع رپورٹ پیش کرنے پر پذیرائی کی اور شیلڈز پیش کیں۔ وزیراعظم نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت کی اور پیداواری شعبے کا تفصیلی جائزہ لے کر استعداد کا تخمینہ پیش کرنے والی ٹیم کی پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی موثر بنائی جارہی ہے،کیمروں پر مشتمل پیداوار کی خود کار نگرانی کا سسٹم نصب کرنے میں رکاوٹیں دور کی جائیں،صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیداواری شعبے میں جو کاروبار رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کر رہے ہیں، ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پیداوار کی نگرانی کے نظام کی آڈٹ رپورٹ کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیداوار کی نگرانی کے نظام کی موثریت کو جانچنے کیلئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی باقی شعبوں میں بھی اس کا آڈٹ کرے ،ٹیکس کی مکمل استعداد کے مطابق ٹیکس کی وصولی عوام کی صحیح معنوں میں خدمت ہے،ٹیکس کی استعداد اور وصول کئے جانے والے ٹیکس کے درمیان فرق پر جامع رپورٹ تشکیل دینے والی ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،ٹیم نے شب و روز محنت کے بعد ملکی ٹیکس استعداد کا بہترین جائزہ پیش کیا۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.