اسلام آباد(بی بی سی)پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خدشۂ نقصِ امن کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے، اور ان کے مطابق اس کی تصدیق وزارت داخلہ بھی کر چکی ہے۔
پیر کو عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے دیگر ارکان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ گورنر خیبر پختونخوا کی نگرانی میں قائم ایڈوائزری کونسل کرے گی۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا دیگر وزرا کو بھی اسی بنیاد پر تحویل میں لیا گیا ہے یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 3 ایم پی او کے تحت حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی شخص کو تحویل میں لے سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی پر نو مئی کے واقعات میں فرد جرم عائد کی جائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ بھی ایڈوائزری کونسل کرے گی۔
عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عمل پیرا تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عوام سڑکوں پر نہیں نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس موقع پر پاکستانی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک میں پہلی بار ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی ،بلکہ ماضی میں مختلف حالات میں آٹھ مرتبہ ایسا کیا جا چکا ہے۔
ان کے بقول گورنر راج میں تین مرتبہ دو، دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے، جبکہ مزید توسیع کا طریقہ کار بھی آئین میں موجود ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں چیلنج کرتی ہے تو حکومت اپنے اقدام کا دفاع کرے گی۔
وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اربوں روپے فراہم کیے گئے لیکن یہ رقم مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی گئی۔
اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ ان کے بقول سہیل آفریدی شدت پسند حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].