پشاور(بی بی سی)پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ’صوبے کو درپیش مسائل اور مشکلات کے باوجود اب ہم درست سمت میں سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔‘
گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’اب وفاق کے ساتھ گالم گلوچ کی سیاست نہیں ہوگی بلکہ دلیل اور مؤثر مکالمے کے ذریعے صوبے کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔ ہماری پالیسی کابل، قندھار یا جلال آباد سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے طے ہو گی۔‘
سہیل آفریدی کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت ان کا سٹیٹس آف لائن ہے اور وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ جن افراد کے خلاف کوئی مقدمات نہیں ہوں گے اگر ان کے خلاف کیس نہ ہوا تو انھیں رہا کر دیا جائے گا، ورنہ انھیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اندھیرا ختم ہو چکا ہے اور اب ہمارا سفر روشنی کی جانب گامزن ہے۔ جنگیں صرف فوجیں نہیں بلکہ قومیں مل کر لڑتی ہیں، اور پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل کی فراہمی کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
اُنھوں نے بتایا کہ صوبے میں انٹرنیٹ بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ایک یا دو روز میں بند راستے بھی کھول دیے جائیں گے، جس کے بعد معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو جائیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا، ’ان کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے، میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’صدر کا اقدام ایک سرجری کی مانند تھا، کیونکہ جب اینٹی بائیوٹک سے مسئلہ حل نہ ہو تو پھر سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ہماری پولیس طویل عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے، شہادتیں ہو رہی ہیں، اب اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔‘
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].