صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے روس یوکرین کی توانائی کی چھ تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے: زیلنسکی کا دعویٰ

صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے روس یوکرین کی توانائی کی چھ تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے: زیلنسکی کا دعویٰ
یوکرین(بی بی سی)یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کی توانائی کی چھ تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ زیلنسکی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کے توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ یہ جنگ بندی ’فوری طور پر نافذ‘ ہو جائے گی، تاہم زیلنسکی کے مطابق روس نے یوکرین ’گیس سٹیشنوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات‘ پر حملے کیے۔ یوکرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یوکرِنفارم کے مطابق روسی حملے میں بجلی کی ترسیل کا نظام تباہ ہونے کے بعد ایزیوم شہر کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے جبکہ مغربی یوکرین میں توانائی اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی رات بھر نشانہ بنایا گیا۔ زیلنسکی کا کہنا ہے ملک بھر میں توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں 33 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا ’ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، جبکہ روس نے ہمارے گیس سٹیشنوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں یہ صدر ٹرمپ کو پوتن کا جواب تھا۔‘ دوسری جانب جب صدر ٹرمپ سے روس کی جانب سے اس مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دیکھنا پڑے گا - کیونکہ خلاف ورزیاں دونوں جانب سے ہوئی ہیں۔‘

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.