حوثیوں کا ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: حوثیوں کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں، صدر ٹرمپ

حوثیوں کا ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: حوثیوں کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں، صدر ٹرمپ
واشنگٹن(بی بی سی)یمن کے حوثیوں نے سوموار کی شام ایک بار پھر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے دعویٰ کیا ہے کہ جب کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے سعودی دارالحکومت کی جانب آنے والے ایک میزائل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: ’حوثیوں کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں... یہ بالکل صحیح نہیں۔‘ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’ہماری مسلح افواج نے آج شام دشمن سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور حملہ درست نشانے پر لگا۔‘ یحییٰ سریع کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں واقع خمیس مشیط ایئربیس کو بھی ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے ’شدت پسند حوثی ملیشیا کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کرنے‘ کا دعوی کیا ہے۔ یہ اعلانات اور دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی حکام نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش سنیچر تک بڑھا دی ہے، جبکہ فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دی ہیں کیونکہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود میں فضائی آمدورفت معطل ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ ریاض ایئرپورٹ 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد سے بند ہے، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔ اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 10 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.