کوئٹہ میں گداگری کا بڑھتا رجحان اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

کوئٹہ میں گداگری کا بڑھتا رجحان اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں
کوئٹہ میں گداگری کا بڑھتا ہوا رجحان محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور کمزور سماجی تحفظ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بھیک مانگنے والوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی، خصوصاً خواتین کے ہمراہ کمسن بچوں کا دکانوں اور بازاروں میں جا کر پیسے مانگنا، ایک ایسی صورتِ حال ہے جس پر متعلقہ حکام کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دکانداروں کے مطابق بازاروں میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافے سے انہیں کاروباری مشکلات کا سامنا ہے۔ دکانوں پر بار بار آنے والے افراد کی وجہ سے کام میں خلل پڑتا ہے اور گاہکوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ تاہم اس مسئلے کو صرف کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پس پردہ معاشی اور سماجی عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت بعض خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں بھیک مانگنے والے ہر فرد کو پیشہ ور گداگر قرار دینا مناسب نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی مستحق افراد اور منظم انداز میں گداگری کرنے والے عناصر کے درمیان فرق کیا جائے تاکہ حکومتی اقدامات سے ضرورت مند خاندان مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ اس صورتِ حال کا سب سے تشویش ناک پہلو کمسن بچوں کی بھیک مانگنے میں شمولیت ہے۔ پانچ اور آٹھ سال جیسے کم عمر بچوں کا بازاروں میں بھیک مانگنا ان کی تعلیم، ذہنی نشوونما، صحت اور محفوظ بچپن کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ اگر بچوں کو کسی کی جانب سے زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کیا جا رہا ہے یا انہیں کسی منظم نیٹ ورک کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ معاملہ محض گداگری تک محدود نہیں رہتا بلکہ بچوں کے استحصال کا سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس پہلو کی تحقیقات کرکے حقائق سامنے لانا اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ گداگری کی روک تھام کے لیے محض عارضی مہمات یا گرفتاریوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک جامع حکمت عملی اپنائیں۔ اس حکمت عملی میں مستحق خاندانوں کی نشاندہی، مالی معاونت، روزگار کے مواقع، سماجی بحالی اور بچوں کو تعلیم کی طرف واپس لانے کے اقدامات شامل ہونے چاہییں۔ چائلڈ پروٹیکشن اداروں اور سماجی بہبود کے محکموں کو بھی اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بازاروں اور تجارتی مراکز میں گداگری کی صورتِ حال کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا بعض افراد واقعی مجبوری کے تحت بھیک مانگ رہے ہیں یا اس عمل کے پیچھے کوئی منظم گروہ سرگرم ہے۔ کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ انسانی وقار اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ کوئٹہ میں گداگری کے بڑھتے رجحان کا حل صرف بھیک مانگنے والوں کو سڑکوں اور بازاروں سے ہٹانے میں نہیں بلکہ ان حالات کو بہتر بنانے میں ہے جو لوگوں کو اس عمل کی طرف دھکیلتے ہیں۔ انتظامیہ، سماجی بہبود کے اداروں اور شہری نمائندوں کو مل کر ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جو ایک طرف شہریوں اور دکانداروں کی مشکلات کم کرے اور دوسری طرف مستحق خاندانوں کو باعزت روزگار اور بچوں کو تعلیم و تحفظ فراہم کرے۔ گداگری کے مسئلے پر مؤثر پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب قانون کے نفاذ کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی پوری کی جائے۔ کوئٹہ کے بازاروں کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر مستقل، منصفانہ اور انسانی ہمدردی پر مبنی حل کی طرف توجہ دے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.