ہر شخص اپنے دائرہِ کار سے باہرکیوں ہے؟

ہر شخص اپنے دائرہِ کار سے باہرکیوں ہے؟
انگریزی کا ایک لفظ ہے ڈومین ڈومین کا مطلب ہے اپنی حدود میں رہنا یا اپنے دائرہِ کار میں کام کرنا۔ ہمارے پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے ڈومین کے اندر کام نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں اور اسے کہیں کہ میں وکیل ہوں تو وہ آپ کو وکالت کے مشورے دینا شروع کر دیتا ہے قانون بتانا شروع کر دیتا ہے۔ وکیل کے پاس چلے جائیں اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوں اور اسے کہیں کہ میرے فلاں جگہ پر درد ہو رہا ہے تو وہ ڈاکٹر بن کر آپ کو دوا بتانا شروع کر دیتا ہے ہر ایک اپنے ڈومین کے اندر کام نہیں کر رہا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے۔ اور اگر ججز ، سرکاری ملازمین، سیاستدان، ان کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ ججز کا کام حق اور انصاف کی بات کرنا ہے کہ وہ حق کی بات کرے اور انصاف کی بات کرے۔ وہ اس چکر میں بیٹھا ہوا ہے کہ میں ایک سال پہلے ریٹائرمنٹ لے لوں، ریٹائرمنٹ کے بعد میں کسی اور پوسٹ کے لیے کوشش کروں۔ جب وہ ریٹائرمنٹ لے رہا ہوتا ہے تو یا تو اپنی صحت کے حوالے سے درخواست دیتا ہے کہ میری صحت ٹھیک نہیں ہے اور میں یہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ لیکن اگلے ہی لمحے جب کوئی اور پوسٹ اس کو مل رہی ہوتی ہے تو اس پوسٹ کے لیے اس کی صحت بھی ٹھیک ہو جاتی ہے اس کے تمام معاملات بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور وہ دوسری پوسٹ کے لیے پر تولنا شروع کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس کا اپنا کسی بڑی پوسٹ پر ہوتا ہے جو فیلڈنگ سیٹ کرتا ہے ۔ سیاستدان کا کام خدمت کرنا ہے، عوام کے معاملات کو دیکھنا ہے، عوام کی خدمت کرنا ہے۔ وہ ٹھیکیداری میں لگا ہوا ہے، اسے اپنی ٹھیکیداری سے فرصت ہی نہیں ہے۔ سرکاری افسروں کی اگر بات کر لیں تو سرکاری افسر بھی اسی طریقے سے ہیں۔ لین دین کے معاملے میں وہ بڑی بڑی پوسٹوں پر پہنچنے کے لیے لین دین کرتے ہیں اور پھر لین دین کے بعد جب وہ جس پوسٹ پر بیٹھتے ہیں تو عوام کا خون چوس رہے ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اگر کوئی لین دین کیا ہوتا ہے تو ان کا سب سے پہلا ٹارگٹ یہ ہوتا ہے کہ جو لین دین کیا ہوا ہے اس معاملے کو پہلے سب سے پہلے برابر کیا جائے۔ ایک اور بات یاد آئی بدنام سیاستدان زیادہ ہے کہ وہ موروثی سیاست کرتا ہے یعنی باپ کے بعد بیٹے اور پھر پوتے اور اندر کھاتا ایک کلرک بھی کوشش کرتا ہے کہ اس کا بیٹا کہیں لگ جائے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری کوارٹر خالی نہ کرنا پڑے اور اس طریقے سے آپ کلرک سے صدر پاکستان تک چلے جائیں جس طریقے سے ہم اس نظام کو لے کر چل رہے ہیں مطلب سمجھ نہیں آ رہی کہ کس طرف ہم جا رہے ہیں۔ ہمارا رخ کس طرف جا رہا ہے ہم نوجوان نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، معیشت انصاف میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے، بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب ہم اپنے عمل پر آتے ہیں تو ہم اپنوں کو کہیں پر ایڈجسٹ کرنا، اپنوں کے معاملات برابر کرنا، تو نا اس طریقے سے معاملات چلیں گے۔ خدانخواستہ انسانوں کے اندر کا یہ لاوا پھٹ نہ جائے۔ کہیں میں نے پڑھا تھا کہ حرص اور لالچ آخر تک ختم نہیں ہوتی ۔ جو دولت کا پجاری ہو جو عہدوں کا پجاری ہو، اس لالچی انسان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اس کا پیٹ اس وقت تک نہیں بھرتا جب تک وہ قبر میں نہ چلا جائے۔ قبر کی مٹی ہی اس کا پیٹ بھرتی ہے۔

Comments 0

Sort by:

Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].

Login to post a comment.