لندن(بی بی سی)برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔
اس دفاعی مشن کا مقصد سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔ اس اقدام کی منظوری برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے دی ہے۔
یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں پر حملے نہیں کریں گے۔‘
حوثی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اس حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حوثیوں نے سنہ 2014 میں دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔
سعودی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے تک حوثیوں کے مملکت کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔
حوثی مغربی یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا، پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں یمن کے وسطی صوبے شبوا میں ایک فوجی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں 70 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے عتق شہر کے قریب العلم کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان نے کہا کہ ان کا ہدف ’سعودی دشمن کے ٹھکانے‘ تھے۔
شمال مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق تین ستمبر سے سعودی فضائی اور توپ خانے کے حملوں میں کم از کم 141 افراد ہلاک اور 395 زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، یمن کی حکومتی وزارتِ صحت نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ چھ اگست سے ملک بھر میں جاری تنازع کے دوران کم از کم 1,282 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].