تہران(بی بی سی)ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ’واشنگٹن نے نو ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ ایران پر حملے کیے اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا کہ جب مذاکرات جاری تھے۔‘
اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے میناب میں ایرانی بچوں کا قتلِ عام کیا، لامرد میں بچیوں کو قتل کیا، ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا اور ایرانی عوام پر پابندیاں مزید سخت کر دیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے 17 جون کو خود دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت کو بھی توڑ دیا اور اب دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایران کی مذمت کرے۔‘
ایرانی ترجمان کے مطابق امریکہ کی ’غیر قانونی جارحیت‘ کی قیمت دنیا کو خطے میں عدم استحکام اور عالمی معیشت میں بے یقینی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’امریکہ اپنی مرضی سے جنگ شروع کرنے، خطے کو آگ میں جھونکنے اور دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جارح کو مدعی اور مظلوم کو مجرم بنا کر ذمہ داری سے نہیں بچا جا سکتا۔‘
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].