تہران(بی بی سی)ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور وہ غیر روایتی جنگ کے لیے تیار ہے۔
تہران میں فوجی ڈرونز بنانے والے ایک مرکز کے دورے کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مسلح افواج، خاص طور پر فوج، کو ملک کی سلامتی یقینی بنانے اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اس لیے ہر طرح کے حالات کے لیے تیاری ضروری ہے۔‘
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے جنرل امیر حاتمی کا حوالے دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’فوج نے غیر متناسب جنگ کے لیے ضروری ساز و سامان اور افرادی قوت تیار کر رکھی ہے اور اس کی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔‘
بیان کے مطابق ایرانی فوج ڈرونز کی تیاری، تقسیم اور دیکھ بھال میں مصروف ہے جبکہ اہلکاروں کو ان کے استعمال کی تربیت بھی دی جا چکی ہے۔
جنرل امیر حاتمی کے مطابق ’ڈرونز، بغیر عملے کے بحری جہازوں اور مائیکرو ڈرونز سمیت بغیر پائلٹ ہتھیار جدید جنگ میں زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’فوج کا ڈرون پروگرام وزارتِ دفاع کے تعاون سے شروع ہوا تھا اور اب اس میں جامعات، ماہرین اور علم پر مبنی کمپنیوں کی شمولیت بھی ہے۔‘
جنرل امیر حاتمی کے مطابق ایرانی بحریہ سمندر میں اور آبنائے ہرمز کے مشرقی ساحلی علاقوں میں فعال موجودگی رکھتی ہے۔ ان کے بقول، اس علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی دشمن جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں آمدورفت کے حوالے سے اپنے ضوابط پر عمل درآمد کے لیے بحری بارودی سرنگوں اور خودکار کنٹرول نظاموں کا استعمال کرتا ہے۔
Comments 0
Join the discussion respectfully. Read our Community Guidelines. To report abuse or a policy issue, email [email protected].